خطبات محمود (جلد 16) — Page 86
خطبات محمود ۸۶ سال ۱۹۳۵ء نہیں کوئی دن بھی ایسا گزرا ہو جب کوئی شخص جماعت میں داخل نہ ہوا ہو۔بعض دنوں میں تو بیسیوں سینکڑوں تک داخل ہوتے ہیں مگر ایک دو سے خالی دن تو کبھی نہیں ہوا۔غور کرو کتنا لمبا عرصہ ہے، اکیسواں سال ختم ہونے والا ہے مگر ایک دن میری زندگی کا ایسا نہیں گزرا کہ کوئی احمدی نہ ہوا ہو۔اول تو ڈاک میں ہی درخواست بیعت میں کبھی ناغہ نہیں ہو الیکن اگر ڈاک میں کوئی ایسا خط کبھی نہ آئے تو میں جب باہر نکلا تو مسجد میں ہی کسی نے بیعت کر لی۔پس اللہ تعالیٰ نے میرے زمانہ میں جماعت کو غیر معمولی ترقی دی ہے اور پھر منتظم ترقی۔جو لوگ آتے ہیں وہ ٹھہرتے ہیں استقلال دکھاتے ہیں اور ایک لڑی میں پروئے جاتے ہیں اور جماعت برابر بڑھتی جارہی ہے۔پچھلی مردم شماری کے موقع پر مردم شماری کے افسر نے صوبہ سرحد کے متعلق سرکاری رپورٹ میں لکھا کہ جماعت احمد یہ چار گنا بڑھ گئی ہے اور اہلحدیث فرقہ کم ہو گیا ہے پس جماعت احمدیہ کی ترقی ایسے رنگ میں چلتی ہے کہ دوست دشمن سب کو حیرت میں ڈالتی جا رہی ہے۔بیرونی ممالک میں بعض جگہ ہزاروں کی جماعتیں ہیں اور ان میں سے ایسے ایسے مخلص لوگ ہیں کہ حیرت ہوتی ہے گزشتہ ہفتہ ہی امریکہ سے مجھے ایک چٹھی آئی ہے ، یورپ اور امریکہ کے لوگوں کی زندگی ایسی نہیں ہوتی جیسی ہمارے ملک کے لوگوں کی ہے ، کھانے پینے پہننے اور رہائش میں وہاں کے غریب ایسے پُر تکلف ہوتے ہیں جیسے ہمارے ہاں کے امیر۔امریکہ میں غریبوں کی آمدنی تین چار سو روپیہ ماہوار ہے لیکن یہاں اگر کسی کی اتنی آمد ہو تو وہ زمین پر قدم نہیں لگنے دیتا۔مگر وہاں کے غریب کا اتنا خرچ ہوتا ہے۔ایسے ملک میں سمجھ لوکس قسم کی زندگی کے وہ لوگ عادی ہوں گے پھر وہ مذہبی پابندیوں سے بالا ہیں اور ایسے لوگوں میں اخلاص کا پیدا ہونا کس قدرخوشکن ہے۔امریکہ کی ایک جماعت نے لکھا ہے کہ فلاں شخص نے ہمارے ساتھ ایسا معاملہ کیا ہے جو ٹھیک نہیں۔میں یہ تو نہیں جانتا کہ اس شخص نے ایسا کیا ہے یا نہیں ، اس جماعت نے ایسا لکھا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ ہمیں اس شخص کی بدسلوکی کی پرواہ نہیں ہم نے دین کو قبول کیا ہے اور اگر کوئی شخص ہم سے اچھا معاملہ نہیں کرتا تو اس سے احمدیت پر کیا اعتراض ہے۔آپ کو صرف اس لئے لکھا ہے کہ چونکہ آپ ہمارے امام ہیں اس لئے لکھیں کہ اب ہمیں کس کی طرف رجوع کرنا چاہئے اور کس سے دین سیکھیں۔امریکہ کے رہنے والوں میں ایسا اخلاص حیرت انگیز ہے پھر وہاں مسٹر بار کر ایک وکیل ہیں ، امریکہ کی کسی فرم نے ایک