خطبات محمود (جلد 16) — Page 834
خطبات محمود ۸۳۴ سال ۱۹۳۵ء جا تا لیکن سال دو سال گزرنے کے بعد وہ نا قابل ہو گیا ہے۔جو شخص ہمیں یہ نصیحت کرتا ہے کہ تم بچہ کے پیدا ہوتے ہی اُس کے کان میں اذان دو یقیناً وہ اس تعلیم کے ذریعہ ہمیں اس نکتہ سے آگاہ کرتا ہے کہ بچہ کا ہر دن تعلیم کا دن ہے۔اور ہر روز اُس کی تربیت کا تمہیں فکر کرنا چاہئے۔مگر امت محمدیہ میں سے کتنے ہیں جنہوں نے اس نکتہ کو سمجھا۔ہمیں خدا تعالیٰ نے ایسا معلم دیا تھا جس کا ہر ہر لفظ اس قابل تھا کہ دنیا کے خزانے اُس پر نچھا رو کر دیئے جائیں۔اُس نے ہمیں معرفت کے موتی دیئے ، علوم کے خزانے بخشے ، اور ایسی کامل تعلیم دی جس کی نظیر پیش کرنے سے دنیا عاجز ہے مگر افسوس لوگوں نے اُس کی قدر نہ کی۔تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں پیدا ہوامگر اُس کے کان میں اذان نہ کہی گئی۔پھر کیوں تم نے اب تک یہ نقطہ نہیں سمجھا کہ رسول کریم ﷺ نے بریکاری کو تو سب سے بڑی لعنت قرار دیا ہے اور تمہارا فرض ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو اس لعنت سے بچاؤ۔تم دنیا میں دیکھتے ہو کہ جب کارخانہ والوں کے سپر د کوئی مزدور کیا جاتا ہے تو وہ اُس کا نام رجسٹر میں درج کر لیتے ہیں اور اُس سے کام لینا شروع کر دیتے ہیں۔کیا تم نے کبھی دیکھا ہے کہ کا رخانہ والوں نے کسی مزدور کا نام رجسٹر میں درج کر لینے کے بعد اُسے دو چار سال کے لئے کھلا چھوڑ دیا ہو۔اگر نہیں تو رسول کریم ﷺ نے تمہارے منہ سے کسی بزرگ کے ذریعہ تمہارے بچوں کے کانوں میں اذان دلا کر کہا کہ اب اس کا نام میری اُمت کے رجسٹر میں درج ہو گیا۔تم نے اس بچے کا نام رجسٹر میں درج تو کرا لیا مگر پھر اسے صلى الله کارخانہ سے چھٹی دے دی پس اس غفلت اور کوتاہی کا تم پر الزام عائد ہوتا ہے رسول کریم ﷺ پر نہیں۔ہر نبی اپنی اُمت کا ذمہ دار ہوتا ہے۔جب رسول کریم ﷺ نے اپنی امت کو یہ تعلیم دے دی کہ جب کوئی بچہ پیدا ہو تو اس کے کان میں اذان کہو تو اس کے بعد قیامت کے دن اگر محمد ہے۔خدا تعالیٰ پوچھے کہ اے محمد یہ تیری اُمت کے بیکار جو چور ، قاتل ، جھوٹے ، اور دغا باز ، فریبی ، اور مکار بن گئے اور خون چوسنے والی جونکوں کی طرح انہوں نے ظلم سے دوسروں کی اولادوں کو بھی تباہ کیا ان کی ذمہ داری کس پر ہے؟ تو رسول کریم ﷺ کہ دیں گے اے خدا! اس کی ذمہ داری مجھ پر نہیں میں نے تو انہیں کہہ دیا تھا کہ جس دن بچہ پیدا ہو اُسی دن اس کے کان میں اذان دو جس کا یہ مطلب تھا کہ اُسی دن بچوں کو کام پر لگا دو اور اُن کی نگرانی کرو۔رسول کریم ﷺہ تو یہ جواب دے کر اپنی فرض شناسی کا ثبوت دے دیں گے مگر ذمہ داری اُن لوگوں پر عائد ہو جائے گی جن کے گھروں میں بریکار بچے