خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 832 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 832

خطبات محمود ۸۳۲ سال ۱۹۳۵ء اس پر گھبراہٹ کا اظہار کرے اور اس بیماری کو روکے۔جس طرح ہیضہ کے مریض کے متعلق کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس معاملہ میں کسی اور کو کہنے کی کیا ضرورت ہے بلکہ سارا شہر اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اسکے متعلق گھبراہٹ ظاہر کرے اور اس بیماری کو روکے۔اسی طرح جو شخص بر کا رہے اُس کے متعلق تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اُسے ہم خود روٹی کھلاتے اور کپڑے پہناتے ہیں کسی اور کو اس میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے بلکہ ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ اس بریکاری کے مرض کو دور کرنے کی کوشش کرے کیونکہ وہ طاعون اور ہیضہ کے کیڑوں کی طرح دوسرے بچوں کا خون چوستا اور انہیں بد عادات میں مبتلاء کرتا ہے۔تم ہیضہ کے مریض کو اپنے گھر میں رکھ سکتے ہو تم طاعون کے مریض کو اپنے گھر میں رکھ سکتے ہو مگر تم ہیضہ اور طاعون کے کیڑوں کو اپنے گھر میں نہیں رکھ سکتے۔کیونکہ وہ پھیلیں گے اور دوسروں کو مرض میں مبتلاء کریں گے۔اسی طرح تم یہ کہہ کر کہ ہم اپنے بچوں کو کھلاتے اور پلاتے ہیں اس ذمہ داری سے عہدہ برانہیں ہو سکتے جو تم پر عائد ہوتی ہے بلکہ تمہارا فرض ہے کہ جس قدر جلد ہو سکے اس بیماری کو دور کر و دور نہ قوم اور ملک اس کے خلاف احتجاج کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔پس یہ معمولی بات نہیں کہ اسے نظر انداز کیا جاسکے۔اگر ایک کروڑ پتی کا بچہ بھی بیکار ہے تو وہ اپنے گھر کو ہی نہیں بلکہ ملک کو بھی تباہ کرتا ہے۔یا درکھو تمام آوارگیاں بیکاری سے پیدا ہوتی ہیں اور آوارگی سے بڑھکر دنیا میں اور کوئی جرم نہیں میرے نزدیک چور ایک آوارہ سے بہتر ہے بشرطیکہ ان دونوں جرائم کو الگ الگ کیا جا سکے۔اور اگر چوری اور آوارگی کو الگ الگ کر کے میرے سامنے رکھا جائے تو یقیناً میں یہی کہونگا کہ چور ہونا اچھا ہے مگر آوارہ ہونا بُرا قتل نہایت ناجائز اور ناپسندیدہ فعل ہے لیکن اگر میری طرح کسی نے اخلاق کا مطالعہ کیا ہو اور اِن دونوں جرائم کو الگ الگ رکھ کر اس سے دریافت کیا جائے کہ ان میں سے کونسا فعل زیادہ بُرا ہے تو وہ یقیناً یہی کہے گا کہ قتل کرنا اچھا ہے مگر آوارہ ہونا بُرا۔کیونکہ ممکن ہے قاتل پر ساری عمر میں صرف ایک گھنٹہ ایسا آیا ہو جبکہ اُس نے جوش میں آکر کسی شخص کو قتل کر دیا ہو لیکن آوارہ آدمی ساری عمر ذ ہنی طور پر قاتل بنا رہتا ہے اور اپنی عمر کے ہر گھنٹہ میں اپنی روح کو ہلاک کرتا ہے تم ایک قاتل کو نیک دیکھ سکتے ہو لیکن تم کسی آوارہ کو نیک نہیں دیکھ سکتے کیونکہ ہوسکتا ہے ایک شخص نیک ہو لیکن اُس کی عمر میں ایک گھنٹہ ایسا آ جائے جب وہ جوش میں آ کر کسی کو قتل کر دے اور قتل کے بعد اپنے