خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 802 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 802

خطبات محمود ۸۰۲ سال ۱۹۳۵ء اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایسے ہی جماعتی کاموں کی طرف بلایا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض اوقات ایسے آتے ہیں کہ ساری قوم کو قربانی کی ضرورت ہوتی ہے اور اس میں کوتاہی نیک نتائج پیدا نہیں کر سکتی بلکہ قوم کو تباہ کر دیتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَالَكُمْ إِذَا قِيْلَ لَكُمُ انْفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ انَّا قَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ أَرَضِيتُمُ بِالْحَيوةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ - اے وہ لوگو جو ایمان لائے جب تم کہتے ہو کہ ہم ایمان لائے تو ایمان کے اس دعویٰ کے بعد وجہ بتاؤ کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ خدا کے راستہ میں ڈورڈ ورنکل جاؤ اور جلدی جلدی اپنے کاموں سے فارغ ہو کر آ جاؤ تو کیوں نہیں آتے۔نفر کے ایک معنے دور دور نکل جانے کے ہیں اور ایک جلدی آجانے کے ہیں۔آج ریل اور جہاز سفر کے لئے موجود ہیں اور ہم کچھ مدد بھی دے دیتے ہیں ڈاک کا انتظام موجود ہے اور ہر جگہ کے حالات معلوم کر سکتے ہیں لیکن صحابہ کرام کے زمانہ میں نہ ریلیں تھیں اور نہ جہاز۔پھر سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ ڈاک کا کوئی انتظام نہ تھا اور پتہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ ہمارا فلاں رشتہ دار کہاں ہے اور کس حال میں ہے مگر باوجود اس کے صحابہ کے اخلاص کا یہ حال تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب اختلاف پیدا ہوا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ لڑائی شروع ہو گئی تو ایک صحابی نے کہا کہ اب یہاں جہاد کا میدان ختم ہے چلو ہم کہیں اور چلیں۔اور وہ چین کی طرف نکل گئے اور وہاں اسلام کی بنیاد رکھی۔اور آج چین میں جو سات کروڑ مسلمان ہیں ، ان سب کا ثواب اُن کو ملتا ہو گا۔غور کرو کہ کہاں عرب ہے اور کہاں چین۔ہندوستان دونوں کے درمیان ہے۔چین کی سرحد یہاں سے چار پانچ سو میل ہے اور عرب سے دو ہزار میل لیکن ہم ابھی تک اہلِ چین کی خبر نہیں لے سکے حالانکہ اب سفر کی سہولتیں میسر ہیں، ڈاک کا سلسلہ ہے۔اور ان مقامات پر بھی جہاں ڈاک بہت دیر سے پہنچتی ہے چھ ماہ کے اندر متعلقین کے حالات کا علم ہو سکتا ہے مگر اُس زمانہ میں یہ باتیں نہ تھیں۔اور تاریخوں سے پتہ چلتا ہے کہ بعض دفعہ لوگ رشتہ داروں کی تلاش میں عمریں صرف کر دیتے تھے۔ایک بچہ جب جوان ہوتا تو باپ کی تلاش میں نکلتا تھا اور اسی میں بوڑھا ہو جاتا تھا لیکن آج ڈھائی آنہ کا خط ساری دنیا میں خبریں پہنچا دیتا ہے۔پھر اُس زمانہ میں لوٹ مار کا سلسلہ بہت زیادہ تھا مگر اب نہیں۔چین کے بعض حصوں میں بے شک ابھی یہ سلسلہ جاری ہے لیکن جاپان ،سٹریٹ سیٹلمنٹس ، جاوا ، سماٹرا ، وغیرہ میں