خطبات محمود (جلد 16) — Page 74
خطبات محمود ۷۴ سال ۱۹۳۵ء کیوں فکر ہونے لگا۔ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں کہ ایک دفعہ جنگل میں کوئی لومڑی بھاگی جارہی تھی کسی شخص نے دیکھا تو اس سے پوچھا کہ اس طرح جلدی سے کیوں بھاگی جاتی ہو۔وہ کہنے لگی بادشاہ نے حکم دیا ہے کہ جس قدر اونٹ ہیں وہ پکڑ لئے جائیں۔وہ کہنے لگا تو پھر تمہیں کیوں فکر ہے پکڑے تو اونٹ جائینگے تم کیوں بے تحاشا بھاگی جارہی ہو وہ کہنے لگی کیا معلوم بادشاہ کے سپاہی مجھے اونٹ سمجھ کر پکڑ کر لے جائیں۔تو ہم نے اونٹوں کے پکڑنے کا حکم دیا تھا لومڑیوں کے پکڑنے کا حکم تو دیا ہی نہیں تھا خواہ مخواہ ان کے گھبرانے کے کیا معنی ہیں۔پھر جس قسم کی سیاست میں حصہ لینے کا میں نے اپنی جماعت کو حکم دیا ہے حکومت کے وزراء بھی اس میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔چنانچہ مسلم لیگ اور مسلم کا نفرنس میں ہمیشہ حصہ لیا جاتا ہے۔پنجاب سے سر فیروز خان نون، یو۔پی سے نواب محمد یوسف خان صاحب اور بنگال سے ناظم الدین صاحب جو پہلے منسٹر تھے مگر اب گورنمنٹ کے ممبر مقرر ہو گئے ہیں، ہمیشہ مسلمانوں کی سیاسیات میں حصہ لیتے ہیں اسی طرح ہند و منسٹر بھی حصہ لیتے ہیں۔تو جس قسم کی سیاسیات تک اپنے آپ کو محدود رکھنے کا میں نے حکم دیا ہے اس میں غیروں کا تو کیا ذکر گورنمنٹ کے وزراء بھی حصہ لیتے ہیں بلکہ گورنمنٹ کا قانون خود اس کی اجازت دیتا ہے۔پھر اس میں غضب ہونے کا سوال ہی کونسا پیدا ہوتا ہے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی روٹی کھا تا جائے اور کہتا جائے غضب ہو گیا سر کار مجھے پکڑ نہ لے۔مجھے اس پر لطیفہ یاد آ گیا حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے پاس ایک بزرگ نے جو موجودہ زمانہ کے علماء میں سے ایک بہت بڑے عالم سمجھے جاتے تھے، میں ان کا نام نہیں لیتا عربی زبان سے مس رکھنے والے انہیں جانتے ہیں ، شکایت کی کہ میرالڑ کا پڑھتا نہیں اور یہ میرے لئے بہت بڑی بدنامی کا موجب ہے کیونکہ میرا تمام ہندوستان میں شہرہ ہے اور اگر میرا لڑکا ہی جاہل ہو ا تو یہ بڑی شرم کی بات ہے آپ اُسے نصیحت کریں کہ وہ پڑھے۔حضرت خلیفہ اول فرماتے کہ میں نے اس لڑکے کو بلایا اور نصیحت کی تو وہ کہنے لگا میں گھاس کھو د لونگا مگر پڑھوں گا نہیں۔آخر جب بہت پوچھا کہ آخر تجھے ہوا کیا ہے تو کہنے لگا والد صاحب کہتے ہیں کہ عربی پڑھو اور میں عربی کو موت سے بدتر سمجھتا ہوں۔مجھے انگریزی پڑھا ئیں تو مجھے پڑھنے میں کوئی عذر نہیں مگر عربی تو میں ہرگز نہیں پڑھوں گا۔آپ فرماتے میں نے اسے پھر نصیحت کی کہ عربی زبان سے تمہیں اتنی نفرت کیوں ہے دین کا اکثر علم عربی میں ہی ہے۔پڑھ لو گے تو دینیات سے واقف ہو جاؤ گے۔وہ کہنے لگا میں کیا بتاؤں