خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 73

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء شکایت کی کہ آپ کے بعض افسر ایسے ہیں جو کانگرس کے مخالف حصہ لینے والوں کو بھی سزائیں دیتے اور اس کا نام پالیٹکس میں دخل دینا قرار دیتے ہیں۔تو میرے اس کہنے پر گورنمنٹ نے ایک خاص سرکلر جاری کیا جس میں وضاحت کی کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ سیاسیات میں حصہ نہ لو تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ گورنمنٹ کے خلاف سیاست میں حصہ نہ لو ورنہ گورنمنٹ کی تائید میں سیاست میں حصہ لینا کوئی جرم نہیں۔پس چونکہ اس سے پیشتر ہم گورنمنٹ کا اپنا کام کرتے رہے ہیں اسلئے علیحدہ انجمنوں کی ضرورت نہیں تھی مگر اس موقع پر گورنمنٹ کے بعض کا موں پر نکتہ چینی کی جانی تھی اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ اب علیحدہ سیاسی انجمنیں بنالی جائیں اور جہاں ملازموں کو الگ کر دیا جائے ، وہاں۔ایسے بے اصولوں کو بھی شامل نہ کیا جائے۔یہ بے اصولے لوگ بھی دنیا میں کبھی کوئی کام کیا کرتے ہیں۔کام تو وہ کیا کرتے ہیں جو دیوانے ہوں ورنہ یہ تو جتنے زیادہ پرے رہیں اتنی ہی جماعت کو تقویت حاصل ہو۔غرض جو کام اب کیا جائیگا جماعت پہلے بھی یہ کام کرتی رہی ہے جیسے گورنمنٹ کی طرف سے جب کانگرس کے جتھوں پر مار پیٹ شروع ہوئی اور بعض جگہ ظلم ہونے لگا تو میں نے بحیثیت امام جماعت احمد یہ حکومت کو توجہ دلائی کہ یہ امر گورنمنٹ کو بدنام کرنے والا اور کانگرس سے لوگوں کو ہمدردی پیدا کر دینے والا ہے۔میرے اس توجہ دلانے پر لارڈ ارون نے مجھے لکھا کہ آپ اپنی جماعت کا ایک وفد اس امر کے متعلق تفصیلی مشورہ دینے کے لئے بھیجیں اور انہوں نے سر جافری سابق گورنر پنجاب کو تاکید کی کہ ان کی باتوں کو غور سے سنا جائے اور ان پر عمل کیا جائے چنانچہ ہمارا وفد گیا اور انہوں نے نہایت خوشی سے ہماری باتوں کو سنا اور اس کے بعد سر جافری نے مجھے شکریہ کی ایک لمبی چٹھی اپنے ہاتھ سے لکھ کر بھیجی۔میں نے اس وقت انہیں یہی بتایا تھا کہ آپ بغیر بدنام ہوئے کانگرس کے اثر سے لوگوں کو بچا سکتے ہیں یہ ایک سیاسی بات تھی مگر ہم نے اس وقت اس میں دخل دیا۔پس سیاسی کاموں میں ہم پہلے بھی حصہ لیتے رہے ہیں اور اب بھی لیں گے۔فرق صرف یہ ہے کہ پہلے اس کام کی تمام جماعتوں کو اجازت تھی مگر اب چونکہ جوش کا وقت ہے اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ جولوگ قربانی کے لئے تیار نہ ہوں وہ شامل نہ ہوں اور جو تیار ہوں انہیں شامل کر لیا جائے اور اس طرح میری غرض یہ تھی کہ ایک تو سرکاری ملازم اس میں سے نکل جائیں دوسرے اس قسم کے بے اصولے شامل نہ ہوں۔پس یہ لوگ تو پہلے ہی آزاد تھے اور انہیں کسی نے مخاطب ہی نہیں کیا تھا پھر نہ معلوم انہیں خود بخود