خطبات محمود (جلد 16) — Page 744
خطبات محمود ۷۴۴ سال ۱۹۳۵ء دیں تا ان کا قدم پیچھے نہ رہے۔مثلاً دس دینے والے ساڑھے دس کر دیں۔مگر جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کافی حصہ ایسا ہے جس نے ہیں، پچیس ، پچاس فیصدی کی زیادتی کی ہے اور بعض نے دُگنا کر دیا ہے میں پہلے بتا چکا ہوں کہ اس تحریک کی غرض عارضی نہیں ہے وہ وقت آ رہا ہے جب ہمیں ساری دنیا کے دشمنوں سے لڑنا پڑے گا۔دنیا سے میری مراد یہ نہیں کہ ہر فرد سے لڑنا پڑے گا کیونکہ ہر قوم اور ہر ملک میں شریف لوگ بھی ہوتے ہیں میرا مطلب یہ ہے کہ تمام ممالک میں ہمارے لئے رستے بند کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں پس ہماری جنگ ہندوستان تک محدود نہ رہے گی بلکہ دوسرے ملکوں میں بھی ہمیں اپنے پیدا کرنے والے اور حقیقی بادشاہ کی طرف سے جنگ کرنی ہوگی۔اگر تو احمدیت کوئی سو سائٹی ہوتی تو ہم یہ کہہ کر مطمئن ہو سکتے تھے کہ ہم اپنے حلقہ اثر کو محدود کر لیں گے اور جہاں جہاں احمدی ہیں وہ سمٹ کر بیٹھ جائیں گے مگر مشکل یہ ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہے کہ جو بات اس کی طرف سے آئی ہے اسے ساری دنیا میں پہنچائیں اور ہم نے اسے پہنچانا ہے ہمارا پروگرام وہ نہیں جو ہم خود تجویز کریں بلکہ ہمارا پروگرام ہمارے پیدا کرنے والے نے بنایا ہے۔اور ہم اس میں کوئی شوشہ بھی کم و بیش نہیں کر سکتے۔مجھے یاد ہے غالباً ۱۹۱۱ء یا ۱۹۱۲ء کی بات ہے کہ ایک دن شیخ یعقوب علی صاحب میرے پاس آئے اور کہا کہ خواجہ صاحب سے میری باتیں ہوئی ہیں اور میں اس لئے آیا ہوں کہ آپ تک ان باتوں کو پہنچا دوں۔اُس وقت اختلافات شروع ہو چکے تھے اور نبوت و کفر و اسلام کے مسائل زیر بحث تھے۔میرا خیال ہے کہ یہ ۱۹۱۱ء یا ۱۹۱۲ء کے ابتداء کی بات ہے کیونکہ اس کے بعد خواجہ صاحب ولایت چلے گئے تھے۔ان مسائل کے زیر بحث آنے کی وجہ سے جماعت میں ایک پریشانی اور حیرانی سی پیدا ہو چکی تھی کہ اب کیا بنے گا۔شیخ صاحب نے خواجہ صاحب سے گفتگو کی اور مجھے کہا کہ خواجہ صاحب نے پیغام بھیجا ہے کہ وہ ہر طرح صلح کے لئے تیار ہیں اور کہ اگر میں بھی تیار ہوا تو انہیں کوئی انکار نہیں شیخ صاحب پر انکی اس گفتگو کا اتنا اثر تھا کہ انہوں نے گھر پر آ کر ہی مجھے بلایا۔وہ دروازہ اب نہیں رہا پہلے مسجد مبارک کو جو چھوٹی سیڑھیاں چڑھتی ہیں ان کے ساتھ ایک دروازہ ہوا کرتا تھا۔اور اس سے گزر کر ایک چھوٹا سا صحن تھا اس کے آگے پھر ایک دروازہ تھا جس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آتے جاتے تھے شیخ صاحب نے اس اندر کے دروازہ پر آکر دستک دی اور مجھے بلوایا اور کہا کہ خواجہ صاحب سے میری گفتگو ہوئی ہے اور میری طبیعت پر گہرا