خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 703 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 703

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء چلے گئے ہوں اور دشمن میدان میں کھڑا رہا ہو بلکہ دونوں مواقع پر دشمن میدان چھوڑ گیا اور مسلمان کھڑے رہے حتی کہ حنین کے موقع پر مسلمانوں نے ایک سارے کا سارا قبیلہ گرفتار کر لیا یہ نہیں کہہ سکتے کہ صحابہ کو کبھی بھی شکست نہیں ہوئی تھی۔پس مؤمن اول تو لڑتا نہیں اور اگر لڑائی کے لئے مجبور کیا جائے تو میدان سے کبھی نہیں ہوتا۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ مؤمن صرف دوصورتوں میں پیچھے ہتا ہے۔ایک تو حملہ کرنے کے بعد بڑے لشکر سے ملنے کے لئے اور دوسرے زیادہ مفید صورت میں حملہ کرنے کے لئے۔مثلاً لکیر کاٹ کر دشمن پر حملہ کرنے کے لئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سوائے ان دو صورتوں کے مؤمن میدان سے پیچھے نہیں ہوتا۔پس اگر فرض کر لیں کہ گورنمنٹ اپنا فرض ادا نہیں کرتی اور فرض کر لیں کہ احرار آتے اور فساد کرتے ہیں تو ایسی صورت میں یاد رکھو کہ مؤمن کی موت اُس کی زندگی سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔لوگ کہتے ہیں احمدی ۵۶ ہزار ہیں۔میں کہتا ہوں کہ اگر یہ چھپن ہزار اپنی جانیں قربان کر دیں تو ۵۶ ہزار زندوں سے یہ ۵۶ ہزارمر دے بہت زیادہ کام کر سکتے ہیں۔بچپن میں ہم کہانیاں پڑھا کرتے تھے کہ بعض دیوایسے ہوتے تھے کہ جب اُن کو مارا جاتا تو ان کے خون کے ہر قطرے سے جو زمین پر گرتا کئی اور دیو پیدا ہو جاتے تھے وہ تو کہانیاں تھیں مگر مؤمنوں کے متعلق یہ بات بالکل درست ہے کہ جب مؤمن کے خون کا قطرہ زمین پر گرتا ہے تو وہ ہزاروں مؤمن پیدا کر دیتا ہے۔پس موت کی صورت میں تمہاری قیمت زندگی سے بہت زیادہ ہے۔جان دینے میں مؤمن کو صرف ایک ہی شبہ ہو سکتا ہے کہ اگر مر گئے تو اعمالِ صالحہ سے محروم رہ جائیں گے۔مثلاً ایک شخص کی عمر چالیس سال ہے اگر ساٹھ سال وہ اور زندہ رہتا ہے تو اس عرصہ میں وہ اور بہت سی نیکیاں کر سکتا تھا پس موت کے راستہ میں صرف یہی ایک نیکی کا خیال اُس کے لئے روک بن سکتا ہے ور نہ اگر وہ صحیح طور پر آخرت کو مقدم کرتا ہے تو کوئی دنیوی خیال اُس کے راستہ میں روک بن ہی نہیں سکتا۔یہی ایک خیال کہ اتنی مدت کی نمازوں ، روزوں ، جہاد اور تبلیغ سے محروم رہ جاؤں گا۔اس شبہ کی معقولیت کو اللہ تعالیٰ نے بھی تسلیم کیا ہے اور پھر اس کا جواب بھی دیا ہے چنانچہ فرمایا لَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ یعنی شہید کے اعمال کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔وہ ہمیشہ زندہ ہے اور اس کے اعمال ہمیشہ بڑھتے رہتے ہیں اس نے خدا کے لئے جان قربان کر دی اور خدا نے نہ چاہا کہ اس کے اعمال ختم ہو جائیں۔کوئی دن نہیں گزرتا کہ تم نمازیں پڑھو اور ان کا ثواب تمہارے