خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 672 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 672

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء ہوئے اور نہ آئندہ حتی المقدور ہو نگے۔بلکہ ہماری مثال اس شخص کی سی ہے جو دریا میں بہتے ہوئے ایک کمبل کو پکڑنے گیا اور جب اُس پر ہاتھ ڈالا تو وہ ریچھ تھا جس نے اُسے پکڑ لیا۔جب دیر زیادہ ہو گئی تو لوگوں نے اُسے کہا کمبل کو چھوڑ دو اور باہر آؤ۔وہ کہنے لگا میں تو کمبل کو چھوڑتا ہوں کمبل مجھے نہیں چھوڑتا۔ہم بھی اِس قضیہ کو ختم کرنا چاہتے ہیں ، ہم بھی ابھی چاہتے ہیں کہ یہ جھگڑ اختم ہو مگر حکومت بھی تو جھگڑا ختم کرے۔یا پھر وہ ثابت کر دے کہ ہم نے کبھی قانون شکنی کی یا بغاوت کی یا جھگڑے میں اس سے ابتدا کی مگر وہ ثابت نہیں کر سکتی۔اس کے مقابلہ میں یہ حقیقت ہے کہ بغیر اس کے کہ ہماری طرف سے کوئی ابتداء ہوئی ہو حکام ہم سے اُلجھ گئے۔پھر اس معاملہ کو لمبا کیا گیا ، پھر اس میں مبالغہ کیا گیا ، پھر غلط رپورٹیں پہنچائی گئیں ، پھر ہمارے خلاف سرکلر جاری کیا گیا اور ہمارے خلاف فضاء یہاں تک خراب کی گئی کہ حکومت ہند کے ایک افسر نے ہمارے ایک دوست سے کہا کہ پہلے تو میں آپ کی جماعت کا دوست تھا مگر اب حکومت پنجاب کے بعض افسروں سے گپ شپ کے دوران میں آپ کی جماعت کی ایسی عجیب وغریب باتیں معلوم ہوئی ہیں جن کے ماتحت میں نہیں کہہ سکتا کہ میری دوستی آپ کی جماعت سے آئندہ قائم رہے یا نہ رہے۔اسی طرح اب تک ان افسروں کو کچھ بھی نہیں کہا گیا جنہوں نے بلا وجہ جماعت سے دشمنی کی اور اس کے وقار کو صدمہ پہنچانے کی نا واجب کوشش کی۔اگر ہم ان کے افعال کے متعلق خاموش ہو جائیں اور اگر حکومت ان کو سرزنش نہ کرے تو کل کو وہی افسر یا دوسرے افسر پھر جماعت کے خلاف ایسی ہی کا رروائیاں کر سکتے ہیں۔ان امور کی تکرار کو صرف مُجرم کرنے والے افسروں کی سزا ہی روک سکتی ہے جب تک ایسے لوگوں کو سزا نہ دی جائے ہماری جماعت کا مستقبل اس جہت سے محفوظ نہیں ہو سکتا۔پس با وجود خدا تعالیٰ پر تو کل رکھنے کے ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ ظاہری حالات کو بھی جہاں تک ہو سکے درست رکھنے کی کوشش کریں تو ہم مجبور ہیں کہ حکومت کے رویہ سے اُس وقت تک مطمئن نہ ہوں جب تک عملاً حالات کی درستی کی طرف قدم نہ اٹھایا جائے۔گورنمنٹ کے متعلق میں اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں اگر کسی قوم کی پچاس سالہ خدمات کی کوئی عزت اُس کے دل میں ہے ، اگر کسی قوم کی پچاس سالہ خدمات کی کوئی وقعت اُس کے دل میں ہے تو آج اخلاقی طور پر اسے اپنی کوتاہیوں کا ازالہ کرنا چاہئے۔اخلاق نہ صرف افراد کے لئے ضروری ہیں بلکہ حکومت اور اس کے افسروں کے لئے بھی ضروری ہیں اور اسے چاہئے کہ ان افسروں