خطبات محمود (جلد 16) — Page 606
خطبات محمود ۶۰۶ سال ۱۹۳۵ء بات کا کیا جواب دے سکتی ہے کہ اس نے کیوں دنیاوی زندگی کو عزیز سمجھا اور کیوں سلسلہ کے لئے جانی اور مالی قربانیوں کو اپنے لئے بوجھ اور چھٹی قرار دیا حالانکہ صاف طور پر اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ الَّذِى اَنْقَضَ ظَهْرَكَ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ - انسان پر جتنا بوجھ ہو وہ نیچے جھکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن پر خدا تعالیٰ کا کلام نہیں اُتر تا اور انہیں شریعت کے احکام پر چلنے کی توفیق نہیں ملتی وہ نیچے دیتے ہیں مگر جونہی وہ خدا تعالیٰ کے کلام کو سنتے اور اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں تو جس طرح غبارہ او پر اُڑتا ہے اسی طرح ان کی روح بھی بلند ہونی شروع ہو۔جاتی ہے۔وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ کے الفاظ اللہ تعالیٰ نے شریعت کے احکام کی پابندی کے ساتھ لگائے ہیں اور بتایا ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ کے احکام کی پوری پوری پابندی نہ ہو اس وقت تک کوئی انسان خدا تعالی کی درگاہ میں معزز نہیں ہو سکتا۔پھر فرماتا ہے فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يسرا۔یہ مت خیال کرو کہ تم پر تنگیاں ہیں بے شک تنگیاں ہیں مگر یا درکھو ایک نسر کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لئے دو ٹیسر مقرر ہیں۔عُسر کے ساتھ الف لام یہ بتانے کے لئے لگا یا گیا ہے کہ ایک عسر ہے اور پھر دو ٹیسر۔پس العصر سے مراد ایک ہے اور اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ مؤمن کی ایک تنگی کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے دو سکھ آتے ہیں تنگی تو اس دنیا میں آتی ہے مگر سکھ مؤمن کو اس جہان میں بھی حاصل ہوتا ہے اور اگلے جہان میں بھی۔یہ راستہ ہے جو مؤمن کے لئے تجویز کیا گیا ہے۔اگر تم اپنے آپ کو مؤمن سمجھتے ہو تو کیا یہ ہوسکتا ہے کہ اس راستہ سے تمہیں گزرنا نہ پڑے۔اگر کوئی شخص اس عمر میں سے گزرے بغیر کیسر کا متمنی ہے تو اس سے زیادہ بیوقوف اور کوئی نہیں ہو سکتا۔میں دیکھتا ہوں کہ بعض لوگ ہماری جماعت میں اس قسم کے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں ہمارا کام صرف اتنا ہی تھا کہ ہم نے احمدیت کو قبول کر لیا۔اس کے بعد اگر وہ ذرا سا بھی ابتلا دیکھیں تو جھٹ کہنے لگ جاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی نصرت کیوں نہیں آتی۔ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہوتی ہے جیسے بچے بعض دفعہ رات کو جب سوتے ہیں تو ان کی والدہ انہیں کہتی ہے تم اس وقت سو جاؤ صبح ہوگی تو تمہیں مٹھائی دوں گی۔وہ یہ سنکر آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور تھوڑی دیر کے بعد آنکھیں کھول کر کہتے ہیں۔اماں! کیا اب تک صبح نہیں ہوئی ہمیں مٹھائی کب دو گی ؟ یہ بھی جب ذرا سا ابتلا د یکھتے ہیں فوراً کہنے