خطبات محمود (جلد 16) — Page 514
خطبات محمود ۵۱۴ سال ۱۹۳۵ء بڑھے گا۔گورنمنٹ یہ دیکھے گی کہ رعایا کی اکثریت پر اس کا کیا اثر ہوا ہے یا یہ کہ کوئی طبقہ فساد پر آمادہ ہے یا نہیں۔اگر فساد پر آمادہ ہوئے تو مقدمہ دائر کر دیا نہیں تو توجہ نہ کی۔میں نے یہ معاملہ اس زور سے پیش کیا کہ مسٹر کیلکار نے اس قانون کے متعلق اسمبلی میں کھڑے ہو کر میرا حوالہ دیا اور کہا ہز ہولینس مرزا بشیر الدین نے مجھ سے کہا کہ یہ قانون ناقص ہے اور اسے بدلنا چاہئے۔اور یہ بات انہوں نے اتنی دفعہ دُہرائی کہ مسٹر پٹیل جو اُس وقت اسمبلی کے صدر تھے وہ کھڑے ہو کر کہنے لگے میں آنریبل ممبر کو تو جہ دلاتا ہوں کہ یہ اسمبلی گورنمنٹ کی ہے ہز ہولی نس کی نہیں اس پر قہقہہ پڑا۔اب وہ قہقہے لگانے والے ممبر دیکھ سکتے ہیں کہ اس کا کیا نتیجہ نکلا۔اگر ہر قوم کو اجازت ہوتی کہ جب اس کے بزرگ کی کوئی ہتک کرے تو وہ اس پر نالش کر دے تو جھگڑا کس بات کا تھا مگر مشکل یہ ہے کہ قانون یہ بنایا گیا کہ جب کسی قوم کے بزرگ کی ہتک کی جائے تو ہتک کرنے والے پر نالش گورنمنٹ کرے گی اس قوم کے افراد نہیں کر سکتے۔اب گورنمنٹ پر کسی بزرگ کا وہ اثر کہاں ہو سکتا ہے کہ جو اس بزرگ کو ماننے والے پر ہوتا ہے کہ وہ نالش کرتی پھرے۔گورنمنٹ تو یہ دیکھتی ہے کہ جن کا دل دُکھا ہے وہ کتنی تعداد میں ہیں اور آیا وہ بے قابو ہو کر قانون توڑنے کے لئے تیار ہیں یا نہیں۔اگر دیکھے کہ ان کی اکثریت ہے اور توجہ نہ کی تو فساد کا خطرہ ہے تو پھر وہ توجہ کرتی ہے لیکن اگر یہ دیکھے کہ تھوڑے سے لوگ ہیں جو ر و دھو کر آپ ہی خاموش ہو جائیں گے تو مجھتی ہے اس مصیبت میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے کہ اقلیت کی حمایت کر کے اکثریت کو اپنا مخالف بنا لیا جائے۔نیشنل لیگ کا فرض ہے کہ وہ آئینی ذرائع سے کام لیکر اس امر کی جد و جہد کرے کہ یا تو گورنمنٹ اس قانون کو تبدیل کر دے یا پھر ہمارے سلسلہ یا بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جو ہتک کرے اُس کا جواب ہم بھی اُسی رنگ میں دیں گے جس رنگ میں کہ ہمارے دشمن ہمارے خلاف لکھتے یا تقریریں کرتے ہیں۔یہ کام ہیں جو میں نیشنل لیگ کے سامنے رکھتا ہوں۔ذرائع کے متعلق میں نے تاکید کی تھی کہ قانون اور شریعت کے اندر ہوں یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ یہ تاکید کوئی معمولی تاکید ہے۔یہ نہایت ضروری امر ہے کہ شریعت کی پابندی اور قانونِ وقت کی اطاعت ہمیشہ ملحوظ رکھی جائے مگر یہ بات دوستوں کو سمجھ لینی چاہئے کہ قانون شکنی کے وہ معنی نہیں جو عام طور پر سمجھے جاتے ہیں۔در حقیقت قانون کے دو حصے ہوتے ہیں۔ایک قانون ساری شقوں پر حاوی ہوتا ہے اور ایک قانون مجمل ہوتا ہے اسکی تشریح لوگوں پر چھوڑ دی