خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 507 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 507

خطبات محمود ۵۰۷ سال ۱۹۳۵ء کے سوا باقی تمام مسلمانوں کو کن چنیوں کی اولاد کہا ہے۔یہ غلط ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سب مسلمانوں کو ایسا کہا ہو ہم نے عدالت میں بھی حوالہ جات سے ثابت کر دیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ کے یہ معنی نہیں۔نیز یہ کہ جن الفاظ پر اعتراض ہے وہ سب مسلمانوں کی نسبت نہیں استعمال کئے گئے بلکہ ان لوگوں کی نسبت استعمال کئے گئے ہیں جنہوں نے اس سے بہت زیادہ گندے اور ناپاک الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور جماعت احمد یہ کے خلاف استعمال کئے تھے۔جنہوں نے کہا تھا مسیح موعود علیہ السلام دجال ہیں اور فاسق و فاجر ہیں جنہوں نے کہا تھا کہ احمدیوں کی بیویوں کو طلاق ہو جاتی ہے اور احمدی جماعت دجال کی ذریت ہے ان لوگوں کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کہا کہ یہ ذُرِّيَّةُ الْبَغَايَا ہیں۔تم ان گالیوں کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کی جماعت کو بعض علماء کہلانے والوں نے دی ہیں کسی شریف آدمی کے سامنے رکھ کر اس سے پوچھ کر دیکھ لو کہ آیا ان لوگوں کو ذُرِّيَّةُ الْبَغَايَا خواہ یہ الفاظ حرامزادہ کے معنی میں ہی کیوں نہ ہوں کہنا جائز ہے یا نہیں۔میں نہیں سمجھتا کہ اس سوال کے دو جواب ہونگے۔ہر شریف آدمی یہی کہے گا کہ یہ لوگ ان الفاظ کے بلکہ ان سے بڑھکر الفاظ کے مستحق تھے۔یقیناً وہ لوگ جنہوں نے احمدیوں کو دجالوں کی اولاد کہا ، جنہوں نے احمدیوں کی عورتوں کو کنجریاں کہا، جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کو بھڑ وا قرار دیا اور اسی قسم کی بیسیوں گالیاں دیں ان کے حرامزادہ ہونے میں کون شبہ کر سکتا ہے۔باقی رہے عام مسلمان یا وہ علماء جنہوں نے ایسا نہیں کیا اور ایسے بہت سے علماء مسلمانوں میں تھے ان کی نسبت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ ان میں شریف اور نیک لوگ موجود ہیں اور ہم ان کی عزت کرتے ہیں ہم نے عدالت میں بھی ثابت کر دیا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کی تحریرات سے نکال کر دکھا دیا تھا کہ آپ لکھتے ہیں ہندوؤں سکھوں اور عیسائیوں میں اعلیٰ درجہ کے شریف لوگ موجود ہیں میں انہیں بُر انہیں کہتا۔میں بعض دفعہ سخت الفاظ ان لوگوں کی تنبیہہ کیلئے استعمال کرتا ہوں جنہوں نے گالیوں میں ابتداء کی اور بکو اس میں انتہاء کو پہنچ گئے۔مگر با وجود ا سکے لوگوں کو جوش دلانے کیلئے عَلَى الْإِعْلَانُ کہا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تمام مسلمانوں کو حرامزادہ اور ان کی عورتوں کو کتنیاں قرار دیا ہے اور برابر اشتہارات ، اخبارات اور رسائل میں حضرت مسیح موعود علیہ