خطبات محمود (جلد 16) — Page 493
خطبات محمود ۴۹۳ سال ۱۹۳۵ء کام کرائے جائیں جیسے سٹیشنوں پر جا کر پانی پلانا ہے ، جن مقامات پر ریلوے سٹیشن ہیں وہاں کے ست سٹیشنوں پر جا کر پانی پلائیں کسی کا بچہ گم ہو جائے ، اسباب گم ہو جائے تو تلاش میں مدد دیں تا انہیں خدمت کی عادت پیدا ہو۔یاد رکھو جس قوم کو خدمت کرنے کی عادت نہ ہو وہ ہمیشہ وقت پر فیل ہو جاتی ہے محض ارادہ کسی کام نہیں آ سکتا۔رسول کریم ﷺ کے صحابہ سے زیادہ پختہ ارادہ اور کس کا ہو سکتا ہے مگر آپ بھی ہمیشہ فوجی پریکٹس کراتے رہتے تھے حتی کہ مسجد میں بھی کراتے تھے۔ایک دفعہ حبشہ کے لوگوں کو آپ نے بلایا اور ان سے فرمایا کہ فوجی کرتب دکھاؤ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ تم بھی دیکھنا چاہتی ہو تو میرے کندھے کے پیچھے کھڑے ہو کر دیکھو۔^ اسی طرح ایک دفعہ آپ باہر گئے تو صحابہ تیراندازی کی مشق کر رہے تھے۔آپ نے کہا یوں کرو کہ دو گروہ ہو کر آپس میں مقابلہ کرو، پھر ایک گروہ میں آپ بھی شامل ہو گئے۔اس پر دوسرے فریق نے کما نہیں رکھ دیں۔آپ نے فرمایا یہ کیا۔انہوں نے عرض کیا کہ حضور کے مقابل پر ہم کس طرح تیر چلا سکتے ہیں ؟ آپ ہنس پڑے اور الگ ہو گئے۔شے تو ہر کام مشق سے ہوتا ہے تم یہ خیال کرتے ہو کہ ایک زمانہ میں جب طوفان آئے گا اور دنیا غرق ہونے لگے گی اُس وقت تم اسے بچا لو گے یہ کبھی نہیں ہو سکتا اس کے لئے ضروری ہے کہ ہر روز تھوڑی تھوڑی مشق کرتے رہو۔وطن کی ، عزیز واقارب کی ، اوقات کی ، جان و اموال کی قربانی کی عادت ڈالو، روزانہ تھوڑا تھوڑا وقت کام کرو، سالانہ پارٹیاں بنا کر پرو پیگنڈا کے لئے جاؤ۔مثلاً چند احباب اکٹھے ہو کر بائیسکلوں پر جائیں اور مدراس کا دورہ کریں، مرہٹہ علاقہ تک گاڑی میں جائیں اور آگے بائیسکلوں پر دورہ کریں۔پہلے سال وہ پارٹی صرف یہ لیکچر دے کہ تنظیم کرو، دوسرے سال لوگ ان کے واقف ہو چکے ہوں گے اور ان کی تحریک پر فورا عملی تنظیم کے لئے تیار ہو جائیں گے۔پس ضرورت اس بات کی ہے کہ کچھ کام کر کے دکھاؤ۔گاندھی جی کی نقل کر کے حکومت نے بھی کچھ روپیہ دیہات کی اصلاح کے لئے تجویز کیا ہے مگر وہ روپیہ بھی برباد ہو جائے گا، کچھ بڑے بڑے افسروں کی تنخواہوں میں چلا جائے گا اور کچھ دفتر ی ساز و سامان اور میزوں کرسیوں کی خرید میں۔میں ایک دفعہ گورداسپور کا زراعتی فارم دیکھنے گیا فارم کے ڈپٹی صاحب جو آج کل ایک بڑے افسر ہیں مجھے فارم دکھا رہے تھے۔میں نے دیکھا کہ زمیندار آتے تھے ، جھک کر سلام کرتے اور گود کر الگ ہو جاتے۔میں نے ان سے کہا کہ یہ لوگ آپ سے فائدہ کیا