خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 472

خطبات محمود ۴۷۲ سال ۱۹۳۵ء سے کام لیا۔اس کے بعد خدا تعالیٰ آپ کو مدینہ لے گیا اور وہاں اجازت دی گئی کہ اگر دشمن تلوار سے حملہ کرتا ہے تو تلوار سے اس حملہ کا دفاع کیا جائے مگر اس حکم کے باوجود رسول کریم ﷺ نے پھر بھی دشمن پر حملہ کرنے میں ابتداء نہ کی بلکہ اس انتظار میں رہے کہ دشمن حملہ کرے تو آپ اس کا جواب دیں۔اور اگر یہی صورت حالات رہتی کہ دشمن حملہ نہ کرتا تو رسول کریم ﷺ جنگ نہ کرتے مگر اللہ تعالیٰ نے کہا ہم نے چونکہ مسلمانوں کو ابتدأ حملہ کرنے سے روکا ہوا ہے ، اس لئے وہ تو حملہ نہیں کریں گے آؤ ہم مکہ والوں کو لڑائی پر اکساتے ہیں۔چنانچہ مکہ والوں کو بیٹھے بٹھائے جنون گو دا اور انہوں نے مدینہ پر حملہ کر دیا تب مسلمانوں کو بھی جنگ کرنی پڑی۔غرض بعض حکام کے موجودہ رویہ نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ ہم حکومت انگریزی کے ایجنٹ نہیں۔اگر گورنمنٹ کے ہم ایجنٹ ہوتے تو کیا حکومت کا ہم سے وہی سلوک ہوتا جو اب ہو رہا ہے؟ پس یہ بھی ایک فائدہ ہے جو اس فتنہ کی وجہ سے ہمیں پہنچا۔مذہب کی ہدایت کے ماتحت چونکہ ہم نے خود حکومت سے بگاڑ پیدا نہیں کرنا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے خود ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ ہم اس الزام سے بری ہو گئے اور تبلیغ کا نیا رستہ ہمارے لئے کھل گیا۔یہ وہ اثرات ہیں جو ہماری جماعت پر موجودہ فتن کے ہوئے ہیں۔مگر یاد رکھو تمام تاثرات اور تاثیرات بے فائدہ ہوتی ہیں جب تک وہ جماعت جس کے لئے وہ تأثرات و تاثیرات پیدا کی جاتی ہیں اپنے عمل سے یہ ثابت نہ کر دے کہ وہ ایک بڑھنے والی قوم ہے اور کوئی روک اس کے مقصد کے حصول سے اسے نہیں ہٹا سکتی۔میں جب میاں شریف احمد صاحب پر حملہ کے واقعہ کو دیکھتا ہوں اور پھر لوگوں کے خطوط پڑھتا ہوں تو مجھے حیرت اور جنسی آتی ہے۔ایک طرف میں اپنی جماعت کو بار بار یہ نصیحت کرتا ہوں کہ قانون شکنی نہ کرو، قانون شکنی نہ کرو اور دوسری طرف لوگ مجھے لکھتے ہیں کہ آپ ہمیں اجازت دے دیں ، پھر دیکھیں کہ کیا ہوتا ہے؟ کیسی بے وقوفی کی بات ہے جس بات کو میں مذہباً جائز ہی نہیں سمجھتا اس کے جواز کی مجھ سے خواہش کرنی کیا اس سے زیادہ بے وقوفی کی بات اور اس سے زیادہ عبث اور بیہودہ فعل بھی کوئی ہو سکتا ہے ؟ مذہب کو جانے دو اگر صرف قانون کا ہی سوال ہو تو کیا جسے اشتعال آیا کرتا ہے وہ لوگوں سے کہا کرتا ہے کہ مجھے اجازت دی جائے اور پوچھا کرتا ہے کہ اب میں کیا کروں۔بھلا دنیا میں ایسی کوئی مثال ملتی ہے کہ کسی کو اشتعال آیا ہوا ور وہ لوگوں سے مشورہ