خطبات محمود (جلد 16) — Page 464
خطبات محمود ۴۶۴ سال ۱۹۳۵ء صرف برطانوی حکومت کو وہ حائل سمجھتا ہے ، وہاں بھی انگریزوں کے خلاف جب اس قسم کی کوئی تحریک اٹھتی ہے تو وہاں کے رہنے والے احمدی جہاں ڈچ حکومت کی وفاداری کی تعلیم دیتے وہاں کہتے کہ انگریزوں کو بھی بُرا نہ کہو وہ بھی نیک مزاج اور انصاف پسند ہیں لیکن اب ان واقعات کے بعد ان پر کیا اثر ہو گا۔انگریز افسر انگلستان جا جا کر ہندوستانیوں کی وفاداری کے بارہ میں یہ رائے ظاہر کیا کرتے ہیں کہ ہندوستان میں کروڑوں آدمی گونگے ہیں ان کی ہم ترجمانی کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اپنے دلوں میں وہ انگریزی حکومت کے مداح ہیں مگر انہیں اپنے خیالات کے ظاہر کرنے کی توفیق نہیں مگر حقیقت یہ نہیں کہ وہ لوگ بیان کرنے کی قابلیت نہیں رکھتے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بے شک عوام سمجھتے ہیں کہ انگریزوں میں خوبیاں ہیں مگر وہ ان خوبیوں کے اتنے قائل نہیں جتنے احمدی قائل تھے اس لئے وہ دل میں سمجھتے ہیں کہ انگریز اچھے ہیں مگر ساتھ ہی وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں زبان سے اس کے اظہار کی کیا ضرورت ہے۔ہم اس طرح کیوں اپنے دوسرے بھائیوں کو جو انگریزوں کے برخلاف ہیں مخالف بنالیں۔پس وہ اس لئے گونگے نہیں کہ انہیں بولنا نہیں آتا بلکہ اس لئے گونگے ہیں کہ انگریزی حکومت کی حفاظت کے لئے وہ اتنی دلچسپی نہیں رکھتے جتنی دلچسپی احمدی رکھتے تھے۔یہی حال قدرتی طور پر آئندہ ہماری جماعت کے ان ہزار ہا آدمیوں کا ہوگا جو غیر ممالک میں رہتے ہیں پہلے وہ ایک جوش کے ماتحت ہر ایسے موقع پر کھڑے ہو جاتے تھے جبکہ کوئی انگریزوں کی بُرائی بیان کر رہا ہو لیکن اب باوجود اس کے کہ میں ان کے مشتعل شدہ جذبات کو ٹھنڈا کر رہا ہوں پھر بھی پہلا سا جوش ان میں کہاں باقی رہ سکتا ہے اور کب وہ اپنے ملک میں رہ کر انگریزوں کے خلاف تحریکات کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔وہ کہیں گے ہمیں کیا ضرورت ہے کہ لوگوں سے انگریزوں کے لئے لڑتے پھریں جبکہ ہماری جماعت پر انگریزوں کی حکومت کے ماتحت مظالم ہورہے ہیں اور حکومت انہیں دور کرنے کا انتظام نہیں کرتی۔یہ تفصیلات سمجھنی لوگوں کے لئے بہت مشکل ہوتی ہیں کہ ایک بڑے افسر ہوتے ہیں اور ایک چھوٹے افسر ہوتے ہیں۔چھوٹے افسر غلط رپورٹیں کر دیتے ہیں جن کی وجہ سے بڑے افسر صحیح واقعات معلوم نہیں کر سکتے اور اس وجہ سے مظلوم کی دادرسی کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔مثلاً اپنی جماعت میں ہی میں دیکھتا ہوں جب بعض ما تحت کسی ناظر وغیرہ کے خلاف میرے پاس شکایت کرتے