خطبات محمود (جلد 16) — Page 433
خطبات محمود ۴۳۳ سال ۱۹۳۵ء برابری نہیں مگر جسمانی ایذاء کے متعلق عام طور پر سزا میں ظاہری شکل قائم رکھی جاتی ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے الْحُرُّ بِالْحُرِ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ اگر زید بر کو یا بکر زید کوجسمانی طور پر کوئی ایذاء دیتا ہے اور زید بڑا آدمی ہے تو یہ نہیں ہوگا کہ اگر بکر نے زید کو ایک لٹھ ماری ہے تو زید کے بڑے ہونے کی وجہ سے بکر کو پانچ سونٹھ ماری جائیں۔اس نے اگر ایک سوئی ماری ہے تو اسے بھی ایک ہی سوٹی ماری جائے گی۔اس خیال سے دو نہیں ماری جائیں گی کہ زید بڑا اور بکر چھوٹا ہے۔تیسرے۔شریعتِ اسلامی نے ایذاء اور اس کے نتیجہ کو الگ الگ جُرم قرار دیا ہے۔اس بارے میں شریعتِ اسلامی انگریزی قانون سے مختلف ہے انگریزی قانون کے ماتحت اگر کوئی شخص کسی کو قتل کرتا ہے تو اسے قتل کی ہی سزا دی جائے گی ، وہ یہ نہیں دیکھیں گے کہ کس طرح قتل کیا گیا۔فرض کرو ایک شخص گولی مار کر دوسرے کو مار دیتا یا تلوار چلا کر اس کی گردن اڑا دیتا ہے یا اپنی طرف سے تو اسے مار دیتا ہے لیکن وہ چند دن بیمار رہ کر مرتا ہے۔اب مارنے والے کی نیت فوری طور پر اسے مارنا تھی یہ نہیں تھی کہ ایذاء دے دے کر مارے۔گو یہ الگ بات ہے کہ وہ ایذاء سہہ سہہ کر مرالیکن ایک اور شخص ہے وہ اپنے دشمن کو پکڑتا ہے اور پہلے اس کی ایک انگلی کا تا ہے پھر دوسری پھر تیسری پھر چوتھی ، اسی طرح وہ ایک ایک کر کے دوسرے ہاتھ کی انگلیاں کا تا ہے ، پھر پاؤں کی انگلیاں کاٹتا ہے ، پھر ناک کاٹ دیتا ہے، پھر آنکھیں نکال لیتا ہے اور اس طرح ایذاء دے دے کر مارتا ہے۔ہماری شریعت ایسے موقعوں پر ایذاء کی الگ سزا دے گی اور قتل کی الگ دیگی۔اگر قاتل نے فوری طور پر قتل کیا ہے تو اسے بھی قتل کر دیا جائے گا۔اور اگر اس نے ایذاء دے دے کر مارا ہے تو اسے بھی ایذاء دے دے کر مارا جائے گا۔جیسے احادیث میں آتا ہے کہ کچھ لوگ بعض صحابہ کو پکڑ کر لے گئے اور لوہے کی گرم گرم سلاخیں انہوں نے اُن کی آنکھوں میں پھیریں اور پھر قتل کر دیا۔جب وہ پکڑے آئے تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا انہیں بھی اسی طرح مارو۔پہلے لوہے کی سلاخیں گرم کر کے ان کی آنکھوں میں ڈالو اور پھر قتل کر دو۔انگریزی قانون میں چونکہ یہ تو ضیح نہیں اس لئے انگریزوں کو اس کا نتیجہ بھی بھگتنا پڑتا ہے۔سرحد میں پٹھان بعض دفعہ انگریزوں اور میموں کو اُٹھا کر لے جاتے اور انہیں سخت ایذا ئیں دے دے کر مارتے ہیں۔جب وہ پکڑے جاتے ہیں تو انگریزوں کو سخت غصہ آتا ہے مگر قانون کی پابندی میں صرف پھانسی دے سکتے ہیں اور کچھ نہیں کر سکتے۔البتہ پولیس والے بعض دفعہ ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے