خطبات محمود (جلد 16) — Page 371
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء دوسرے ممالک میں بڑھتی رہتی ہے اور وہاں طاقت پکڑ کر پھر اپنی پہلی جگہ آ کر لے لیتی ہے۔اسلام اور ہندو ازم میں یہی فرق ہے۔ہندوستان میں ہندوؤں کی تعداد مسلمانوں سے بہت زیادہ ہے مگر مسلمان طاقت اور رعب کے لحاظ سے دنیا میں بہت زیادہ اثر رکھتے ہیں اور ان کی بہت زیادہ طاقت مانی جاتی ہے۔ان کے مقابلہ میں ہند و گو تعداد میں بھی برابر ہیں مگر ان کو ہندوستان سے باہر کوئی پوچھتا نہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اسلام ہر جگہ پھیل چکا ہے مگر ہند و صرف ہندوستان میں ہیں پس جو جماعت ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہوا سے بہت اہمیت حاصل ہوتی ہے اس لئے حکومتوں کا فرض ہے کہ ایسی جماعتوں کے عقائد ، حالات خصوصی اور مذاہب کو مد نظر رکھیں لیکن کتنے تعجب کی بات ہے کہ ہمارے متعلق اس وقت تک جتنی مستقل کتابیں یا رسالے لکھے گئے ہیں، سب غیروں نے لکھے ہیں انگریزوں نے کوئی نہیں لکھا۔ایک مستقل کتاب ایک امریکن مسٹر والٹر نے لکھی ہے ایک مستقل رسالہ رائل ایشیاٹک سوسائٹی فرانس کے اہتمام کے نیچے لکھا گیا ہے۔جرمنی میں بعض مضامین احمدیت کے متعلق لکھے جا رہے ہیں مگر انگریزوں نے سوائے بعض کتب میں مختصر ذکر کے احمدیت کی طرف توجہ نہیں کی۔مستقل لٹریچر سب کا سب غیر قوموں کا پیدا کردہ ہے اور یہ اس سے فائدہ اُٹھا لیتے ہیں۔کس قدر تعجب کی بات ہے کہ جو قوم ہم پر حکومت کر رہی ہے وہ ہمارے حالات سے آگاہی حاصل کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتی جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ ایسی غلط فہمیوں میں مبتلاء ہو جائے گی جن سے فساد پیدا ہو گا اسی وجہ سے کہ انگریزوں نے ہمارے عقائد اور خصوصی حالات کا مطالعہ نہیں کیا۔مثلاً بعض حکام ایسے ہیں جو ہماری ایسی باتوں کو جن میں مخالفوں کی تباہی کا ذکر ہوتا ہے دشمنوں کے قتل کی تحریک سے تعبیر کرتے ہیں اور ان کا یہ کہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے نہ صرف یہ کہ احمدیت کو نہیں سمجھا بلکہ اپنے مذہب کو بھی نہیں سمجھا۔جب حضرت عیسیٰ حضرت موسیٰ علیہما السلام بھی یہ باتیں کہتے تھے تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ بھی قتل کی تحریک کرتے تھے ؟ حقیقت یہ ہے کہ مذہب سکھاتا ہے کہ اصل بادشاہت خدا کی ہے دُنیوی بادشاہتیں صرف اس کے ظل ہیں۔بے شک اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ دنیوی بادشاہوں کی اطاعت بھی ضروری ہے لیکن پھر بھی وہ یہی سکھاتا ہے کہ اصل بادشاہت اللہ تعالیٰ کی ہے اور اس کو قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تمام انبیاء اسی غرض سے دنیا میں تشریف لائے۔حضرت آدم ، حضرت نوح ، حضرت ابراہیم، حضرت موسی ، حضرت عیسی ، حضرت سلیمان ، حضرت داؤد ،