خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 315

خطبات محمود ۳۱۵ سال ۱۹۳۵ء لیکن ایک ساعت کے لئے ، ایک منٹ کے لئے بلکہ ایک لحظہ کے لئے بھی ہم میں سے ہر وہ شخص جو ذرہ بھر بھی ایمان رکھتا ہو اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوئی پر غور کر کے اس نے اللہ تعالیٰ کے نور کو دیکھا ہو ، یہ خیال نہیں کر سکتا کہ ان طاقتوں کا نتیجہ ہمارے لئے کچھ بھی بُرا ہو سکتا ہے۔یہ ساری طاقتیں اگر مل جائیں اور ان میں دنیا کی اور بھی نامور طاقتیں شامل ہو جائیں تو اتنا بھی نقصان ہمیں نہیں پہنچا سکتیں جتنی مکھی کی بھنبھناہٹ پہنچا سکتی ہے۔یہ سب کے سب خوش ہیں کہ ہم نے ایک طاقت جمع کر لی ہے اور ہم بھی خوش ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس طاقت کو توڑنے کے سامان جمع کر رہا ہے۔وہ زور لگا رہے ہیں کہ ہم اپنے تمام منصوبوں کے ساتھ جماعت احمدیہ کو مٹا دیں اور ہم خوش ہو رہے ہیں کہ وہ مخفی اور پوشیدہ طاقتیں جن کے گھلنے کا ہمارے پاس کوئی سامان نہ تھا، اللہ تعالی انہیں ہمارے لئے ظاہر کر رہا ہے تا ثابت کرے کہ یہ سلسلہ میرا قائم کردہ ہے کسی انسان کا قائم کردہ نہیں۔ایک عظمند کے لئے تو یہ نشان بھی کافی ہو سکتا تھا کہ جماعت احمدیہ جس کے پاس نہ روپیہ ہے نہ طاقت ، امراء اس کے مخالف ہیں، صوفیاء اس کے دشمن ہیں ، مسلمان اسے مٹانے پر تلے ہوئے ہیں، غیر قو میں اسے نابود کرنا چاہتی ہیں ، ہندو، عیسائی، سکھ سب اس سے بغض و عداوت رکھتے ہیں مگر اس تمام طوفان مخالفت کے باوجود جو چاروں طرف سے احاطہ کئے ہوئے ہے ، ہماری جماعت کے مخلصین کے دلوں میں ذرہ بھر بھی خوف و خطر نہیں کونسی انسانی طاقت ہے جو یہ اطمینان کی کیفیت پیدا کر سکتی ہے۔اگر یہ کسی انسان کا منصوبہ ہوتا ، اگر جماعت احمدیہ کا کام خدا تعالیٰ کا کام نہ ہوتا تو ہر احمدی اِس مخالفت کو دیکھ کر لرزہ براندام ہو جاتا مگر حالت یہ ہے کہ جس قد رفتنہ بڑھتا ہے اسی قدر ہمیں یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کی تائید کے لئے کوئی اتنا عظیم الشان نشان دکھانے والا ہے جس کے نتیجہ میں وہ ان تمام مخالفتوں کو اس طرح مٹادے گا کہ وہ نَسيا منسيا ہو جائیں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک مقدمہ کے دوران میں ایک دفعہ کسی دوست نے اطلاع دی کہ مجسٹریٹ جس کے پاس مقدمہ ہے ، اس پر مخالفوں نے سخت دباؤ ڈالا ہے اور اسے مجبور کیا گیا ہے کہ وہ آپ کو سزا دے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لیے ہوئے تھے۔یہ سنتے ہی آپ اُٹھ کر بیٹھ گئے اور نہایت جلال کے ساتھ فرمایا آپ لوگ کیا باتیں کر رہے ہیں۔کس کی طاقت ہے کہ وہ خدا کے شیر پر ہاتھ ڈال سکے۔" بے شک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اب فوت ہو