خطبات محمود (جلد 16) — Page 296
خطبات محمود ۲۹۶ ۱۸ سال ۱۹۳۵ء احراریوں کی ہر بات اُلٹی ہے ( فرموده ۳ رمئی ۱۹۳۵ء) تشهد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: سب سے پہلے میں اس امر پر اظہار افسوس کرنا چاہتا ہوں کہ ایک خطبہ میں میں نے ایسے زور دار الفاظ میں اور ایسی تختی کے ساتھ جس سے زیادہ بختی شرافت کے ساتھ ممکن نہیں ، صدر انجمن کے ممبروں پر اعتراض کیا تھا کہ وہ مسجد کی درستی کی طرف توجہ نہیں کرتے۔میں نے کہا تھا کہ یہ برآمدہ بہت چھوٹا ہے بارش ہو تو یہ کافی نہیں اور پھر شور بھی ہوتا ہے اس لئے اسے وسیع کیا جائے اور دیگر ایسے ذرائع بھی اختیار کئے جائیں جن سے لوگوں کو آرام ملے۔اس خطبہ پر غالباً ۳ یا ۴ ماہ گزر چکے ہیں۔اُس دن یا شاید دوسرے دن تک انجمن کے ممبروں پر جن کے دل ہیرے سے بھی زیادہ سخت ہیں، اس کا اثر تھا کیونکہ ایک ناظر نے ایک سکیم مجھے پیش کی تھی کہ یوں کرنا چاہئے اور میں نے اُس سکیم میں بعض غلطیاں نکالی تھیں اور کہا تھا کہ بے شک پہلوؤں میں بھی برآمدے ہوں مگر اس برآمدہ کو بھی بڑا کرنا چاہئے اور یہ بات اُس سکیم میں نہ تھی لیکن جس طرح ایک افیونی آنکھ کھولتا اور پھر سو جاتا ہے بعینہ اسی طرح وہ سکیم ایک دفعہ پیش ہو کر یوں گم ہوئی کہ گو یا دفن کر دی گئی ہے۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ سلسلہ کے اہم کاموں پر متعین ہونے کے بعد ایسی نا معقول ستی ناظر کس طرح کر سکتے ہیں۔اگر میرے یہ الفاظ انہیں بُرے لگیں تو ان کی ذمہ داری ان پر ہے۔میں نے پورے زور دار الفاظ میں انہیں جگانے کی کوشش کی مگر وہ شاید جاگنا چاہتے ہی نہیں۔آج میں اعلان کرتا ہوں کہ جب تک یہ کام نہیں