خطبات محمود (جلد 16) — Page 227
خطبات محمود ۲۲۷ سال ۱۹۳۵ء سب نقل کے ماتحت ہوتے ہیں۔ممکن ہے کوئی خیال کرے کہ اگر ہم تمام کام نقل کے ماتحت کرتے ہیں تو ہم کا میاب کیونکر ہوتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ہم اچھے کام کرنے والوں کی نقل کرتے ہیں اور انہوں نے آگے اچھے کام کرنے والوں کی نقل کی ہوئی ہوتی ہے اور پھر انہوں نے آگے اچھے کام کرنے والوں کی نقل کی ہوئی ہوتی ہے تو ہم کامیاب ہو جاتے ہیں ورنہ نہیں۔اس صورت میں باوجود اس کے کہ نانوے ہزار نو سو ننانوے کام نقل کے مطابق ہوتے ہیں جب ہم اچھے کام کرنے والوں کی نقل کرتے ہیں تو نانوے ہزار نو سوننانوے کام ٹھیک ہو جاتے ہیں اور دس غلط لیکن اگر ہم بُرے کام کرنے والوں کی نقل کرتے ہیں تو ننانوے ہزار نو سو نوے کام غلط ہو جاتے ہیں اور دس ٹھیک اسی لئے کسی نے کہا ہے ” نقل را عقل باید ، یعنی نقل کرنے کے لئے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے ہمیں کامیابی کا گر یہ بتایا ہے کہ جب تم نے دنیا میں نقل ہی کرنی ہے تو محمد ﷺ کی نقل کرو کیونکہ محمد ﷺ نے کسی کی نقل نہیں کی بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال پر اپنے فعل کو جاری کیا اس لئے وہ کسی بندے کی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی نقل ہوتی ہے اور انسان اس نقل میں تمام قسم کے خطرات اور خدشات سے محفوظ ہو جاتا ہے یہی نبی کی سب سے بڑی ضرورت ہوتی ہے۔دنیا میں ہر انسان دوسرے انسان کی نقل کرتا ہے سوائے نبی کے کیونکہ نبی اگر عقل سے کام لینے کے نتیجہ میں بنتا تو وہی شخص نبی ہوسکتا جو شاید توے ہزار سال کی عمر پاتا۔تمام دنیا کے حالات پر کامل غور وفکر کرنے کے بعد لوگوں کے لئے اپنا نمونہ قائم کرتا مگر نبی تو بنتا ہے منٹوں میں کیونکہ خدا تعالیٰ اسے کہہ دیتا ہے کہ آج سے تیرے سب کام ہمارے قبضہ میں ہیں گویا وہی کام جو انسان اگر کرنے لگے تو ہزاروں لاکھوں سال درکا رہوں ، انہیں خدا ایک سیکنڈ میں کر دیتا ہے اور کہہ دیتا ہے آج سے تم ہماری نگرانی میں آگئے اب تمہارے سارے افعال ہمارے قبضہ میں ہیں۔پس نبوت ایک بہت بڑی ضرورت ہے کیونکہ نقل کے بغیر چارہ نہیں اور عقل کے ذریعہ سے کامل ہونے کے لئے لاکھوں سال کی ضرورت ہے جو کسی انسان کو میسر نہیں آ سکتے ان حالات میں ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی ایسا شخص بھیجے جس کے اعمال زمانہ کے ماتحت نہ ہوں بلکہ خدا تعالیٰ کی حفاظت کے نیچے ہوں اور خدا تعالیٰ کے لئے کسی لمبی میعاد کی ضرورت نہیں وہ تو حسن کہتا ہے اور کام ہو جاتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ جب تم نے نقل ہی کرنی ہے تو محمد ﷺ کی نقل کر لیا کرو مگر لوگوں میں یہ ایک مرض ہے کہ وہ اچھا