خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 196

خطبات محمود ۱۹۶ سال ۱۹۳۵ء چاہئے اور باوجود تو رات سے وابستگی کے دعویٰ کے اور باوجود اللہ تعالیٰ کے دوست کہلانے کے تمہارا حق نہیں کہ تم اپنے آپ کو نجات یافتہ کہو کیونکہ تو رات تمہارے دلوں میں نہیں صرف اپنے سروں پر تم اسے اُٹھائے ہوئے ہو۔یہ بتایا ہے کہ محبت کی علامت یہ ہوتی ہے کہ سچا محب اپنے محبوب کے نام پر قربان ہو جاتا ہے مگر تمہاری یہ حالت ہے کہ تم تسلیم کرتے ہو دنیا میں کفر پھیلا ہوا ہے تم تسلیم کرتے ہو کہ اس کے دین کی بے حرمتی کی جارہی ہے مگر خدا جو تمہارا محبوب ہے اس کے لئے تم قربانی کرنے کے لئے تیار نہیں کیونکہ تم موت سے ڈرتے ہو حالانکہ اگر تم واقع میں خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ، اگر واقع میں اس کے دوست ہوتے ، تو جب تم دیکھتے کہ خدا تعالیٰ کا نام دنیا سے مٹایا جاتا ، اس کے کھیت کو بر باد کیا جاتا اور اس کے دین کی تباہی کے سامان پیدا کئے جاتے ہیں تو تم اپنی جانوں پر کھیل جاتے مگر جب تم ایسا نہیں کرتے تو صاف ظاہر ہے کہ نہ تم کو خدا تعالیٰ سے محبت ہے اور نہ خدا تعالیٰ کو تم سے۔پھر جیسا کہ قرآن مجید سے ثابت ہے سورہ فاتحہ میں یہ دعا سکھلائی گئی تھی کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّين " جس کا مطلب یہ تھا کہ ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے جبکہ مسلمان یہود کے ہمرنگ ہو جائیں گے اور رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ جس طرح ایک جوتی دوسری جوتی کے مشابہ ہوتی ہے اسی طرح مسلمان یہود کے مشابہ ہو جائیں گے کے پس جب یہود کو اللہ تعالیٰ نے ایک طرف یہ فرمایا کہ صرف کتاب تمہارے لئے کافی نہیں ہو سکتی جب تک تم اس پر عمل نہ کرو، ادھر یہ بھی پیشگوئی تھی کہ مسلمان ایک زمانہ میں یہود کے مشابہہ ہو جا ئینگے تو ضروری تھا کہ یہود کا ذکر کرنے کے بعد مسلمانوں کو تو جہ دلائی جاتی کہ تم پر بھی چونکہ وہ زمانہ آنے والا ہے جبکہ تم یہود کے مشابہہ ہو جاؤ گے اس لئے ہوشیار ہو جاؤ اور تمثیلی طور پر اس کے لئے جمعہ کے دن کو بیان کیا جو ساتویں ہزار سال یعنی مسیح موعود کے زمانہ سے مشابہت رکھتا ہے۔قرآن کریم میں بھی آتا ہے اِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک دن ایک ہزار سال کا قائم مقام سمجھا جاتا ہے پس اس لحاظ سے ساتواں دن ساتویں ہزار سال کے قائم مقام ہو ا جو مسیح موعود کی بعثت کا زمانہ ہے غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ۔اے مسلمانو! ایک زمانہ تم پر بھی ایسا آنیوالا ہے جبکہ تمہارا امتحان لیا جائیگا اور تم بھی