خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 195

خطبات محمود ۱۹۵ سال ۱۹۳۵ء یہ آیت قرآن کریم میں تین جگہ آتی ہے اور تینوں جگہ مسیح کے ذکر کے ساتھ آتی ہے اور ائمہ اسلام کا اس پر اتفاق چلا آتا ہے کہ یہ آیت مسیح موعود کے زمانے کے لئے ہے پس ادھر قرآن مجید سے ثبوت ملتا ہے کہ نشر واشاعت کا زمانہ مسیح موعود کا زمانہ ہے اور ادھر آئمہ اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ مسیح موعود کا زمانہ نشر واشاعت کا زمانہ ہوگا۔پھر الہامی کتب سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود کا ظہور ساتویں ہزار سال میں مقدر ہے ادھر جمعہ ایام ہفتہ میں سے ساتواں دن ہے اور جمعہ کے دن نشر و اشاعت کا کام ہی کیا جاتا ہے حتی کہ ظہر کی چار رکعتیں مقرر کی گئی ہیں مگر آج کے دن خدا تعالیٰ نے کہا دو رکعتیں میں اپنے بندوں کی خاطر چھوڑتا ہوں پس خطبہ کیا ہے ؟ یہ تحفہ ہے جو خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کے سامنے پیش کیا۔جس طرح گورنمنٹ بعض دفعہ رعایا کا ٹیکس معاف کر دیتی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ نے کہا میں اپنے بندوں کی خاطر دورکعتیں چھوڑتا ہوں وہ ان کی بجائے خطبہ سن لیا کریں تو خطبہ جو ہے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک تحفہ اور ہد یہ ہے جو وعظ ونصیحت کی صورت میں مؤمنوں کو ملتا ہے۔پھر جمعہ کا دن ساتواں دن ہونے کے لحاظ سے ساتویں ہزار سال سے مشابہت رکھتا ہے اور نشر واشاعت کے لحاظ سے تبلیغ دین سے مشابہت رکھتا ہے۔غرض جمعہ میں وہ دونوں باتیں پائی جاتی ہیں جو مسیح موعود کے زمانہ کی علامت ہیں۔یعنی وہ ساتویں ہزار سال میں مبعوث ہو گا اور یہ کہ وہ اسلام کو ادیان باطلہ پر تبلیغ واشاعت کے ذریعہ غالب کر دے گا پس جمعہ اور مسیح موعود ایک ہی چیز ہیں۔اس سورۃ کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھاوَ اخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الحكيم " یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک اور قوم میں بھی دوبارہ ظاہر ہوں گے جو ابھی تم سے نہیں ملی بلکہ بعد میں آئے گی اور رسول کریم اللہ نے اس کی یہ تشریح فرمائی تھی کہ لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالقُرَيَّا لَنَا لَهُ رِجَالٌ مِنْ أَبْنَاءِ فَارِس یعنی اگر ایمان ثریا پر بھی چلا گیا ہوگا تو چند فارسی الاصل لوگ یا ایک جگہ رَجُلٌ آتا ہے یعنی ایک فارسی الاصل مرد پھر ثریا پر گئے ہوئے ایمان کو واپس لائے گا اور اس سورۃ کے شروع میں رسول کریم ﷺ کی دوسری بعثت کا ذکر تھا جو مسیح موعود کی بعثت ہے اور مسیح موعود کی بعثت هُوَ الَّذِى اَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كله والی آیت اور ائمہ سلف کے کشوف کی رو سے جمعہ کے دن سے مشابہت رکھتی ہے۔اب یہود کو یہ بتانے کے بعد کہ تمہیں باوجود تو رات کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے کے نجات کی امید نہیں رکھنی