خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 166

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء جہاں خزانہ خالی ہو جائے مگر خدا کا خزانہ تو کبھی خالی نہیں ہوسکتا۔پھر فرما يامَثَلُ الَّذِينَ حُمِلُوا التَّوْرَةَ لَمْ يَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ اَسْفَارًا ہے مسلمانو ! ہم تمہیں کتاب سکھاتے ہیں، آیات کی تلاوت کراتے ہیں ، قدوس بناتے ہیں ، حکمت سکھاتے ہیں محمد رسول اللہ یہ تمہیں ایسی تعلیم دیتا ہے جو خدا کا بروز اور اس کا مثیل بنادیتی ہے۔تمہارے ذریعہ خدا تعالیٰ کا ظہور دنیا میں ہوگا مگر یہ خصوصیات تمہارے اندر اس وقت تک رہیں گی جب تک حقیقی تعلق تمہارا اس کتاب کے ساتھ رہے گا جب یہ نہیں رہے گا تو تمہارے اندر بھی کوئی خوبی نہ رہے گی اور اس کی مثال یہ دی ہے کہ محمد سے پہلے بھی ایک نبی آیا جس کے پاس تو رات تھی۔یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تو رات کے ذریعہ اپنی قوم کا درجہ بہت بلند کر دیا تھا وہ قوم سانپ تھی مگر اس کے ہاتھ میں آ کر عصا بن گئی۔سانپ جان لیتا ہے اور عصا جان کی حفاظت کرتا ہے۔گویا جو قوم گمراہ کرتی تھی وہ خود ہادی بن گئی۔ان کے اندر یہ تغیر کس طرح پیدا ہوا ؟ یہ تو رات کے ساتھ ان کا تعلق ہی تھا جس نے ان کی کایا پلٹ دی اور انہیں ملک وقد وس وعزیز اور حکیم بنا دیا اور انہیں روحانی اور جسمانی دونوں بادشاہتیں حاصل ہوئیں لیکن جب ان کا تعلق اس کے ساتھ نہ رہا تو ان کی یہ خصوصیات بھی ساتھ ہی مٹ گئیں۔تو رات موجود تھی مگر اس سے انہیں کوئی فائدہ نہ تھا کیونکہ تعلق باقی نہ رہا تھا۔کوئی کتاب خواہ کتنی مفید کیوں نہ ہو خالی اوپر رکھ دینے سے فائدہ نہیں پہنچا سکتی فائدہ اُس پر عمل کرنے سے پہنچتا ہے۔کتاب کا موجود ہونا اگر اس سے فائدہ نہ اٹھایا جائے ایسا ہی ہے جیسے گدھے پر کتابیں لاد دی جائیں ، کیا اُس گدھے کو جس پر کتابیں لا دی ہوئی ہوں کوئی عالم کہتا ہے ؟ اگر ایک مزدور کے سر پر ہیروں کی گٹھڑی رکھی ہوئی ہو تو وہ امیر نہیں کہلا سکتا اسے ہیرے اونچا نہیں کرتے بلکہ اس کے سر کو نیچا ہی کرتے ہیں۔اگر کسی شخص کے سر پر اڑھائی تین من سونا رکھ دیا جائے تو اس سے اس کا سر نیچے جھکے گا، بلند نہیں ہو گا، ہاں اگر اتنا روپیہ اس کے پاس ہو تو یقیناً وہ دنیا میں عزت پائے گا۔اسی طرح روحانی علوم کو اگر کوئی شخص اپنے اندر جذب نہ کرے ان کی حقیقت تک نہ پہنچے بلکہ صرف چھلکے پر ہی اکتفا کرے تو وہ کوئی عزت نہیں پا سکتا اس لئے فرمایا یا درکھو بے شک اللہ تعالیٰ بڑا فضل کرنے والا ہے اور اس کتاب پر عمل کر کے تم ملک ، قدوس، عزیز ، حکیم بن سکتے ہو مگر مغرور نہ ہونا کہ ہم ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گئے ہیں جس طرح یہ کتاب ملک بنا سکتی ہے اسی طرح اسے نظر انداز کر دینا ذلیل بھی کر دیتا ہے ، جس طرح یہ