خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 155

خطبات محمود ♡♡I سال ۱۹۳۵ء رشید۔جب تم تو کہتے ہو تو تمہیں بھی یہی آواز سنائی دیتی ہے کہ تو۔اسی طرح جب تمہارے دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے بیتاب ہو جائیں، جب اس کے عشق میں مدہوش ہو کر تمہاری زبانوں پر بے اختیار سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى سُبْحَانَ رَبِّيَ الأعْلى جاری ہو تو اُس وقت پہاڑ اور دریا اور زمین کا ذرہ ذرہ یہ کہ اُٹھے گا کہ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى سُبْحَانَ رَبِّيَ الاغلی اگر بالکل آہستہ بولو گے تو تسبیح کی آواز بھی مدہم ہوگی اور اگر بلند آواز سے بولو گے تو تسبیح کی آواز بھی زیادہ زور سے پیدا ہو گی۔پس خدا تعالیٰ مسلمانوں کو یہ سبق دیتا ہے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ دنیا میں کا میاب ہو تو تم تسبیح اتنی بلند آواز سے کرو کہ زمین کے ذرے ذرے خدا تعالیٰ کی تسبیح کرنے لگ جائیں اور وہ بھی بے اختیار پکار اُٹھیں کہ سُبْحَانَ اللهُ سُبْحَانَ الله پس تمہیں دنیا میں تسبیح کرنی ہوگی اور اتنی بلند آواز سے تسبیح کرنی پڑے گی کہ دریا اور پہاڑ اور میدان اور جنگل بھی تسبیح کرنے لگ جائیں یہاں تک کہ وہ مکانات بھی تسبیح کرنے لگ جائیں جن میں تم رہتے ہو اور وہ بازار بھی تسبیح کرنے لگ جائیں جن میں تم چلتے ہو۔اگر اس قسم کا کوئی انسان بن جائے تو اسے ہر جگہ تسبیح نظر آنے لگ جاتی ہے اگر ایک فونوگراف عشقیہ اور گندے اشعار گا سکتا ہے تو کیوں زمین اور آسمان خدا تعالیٰ کی تسبیح نہیں کر سکتے۔تم یہ تو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہو کہ ایک گراموفون اشعار گا سکتا ہے ، تم یہ تو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہو کہ مرے ہوئے بھینسے کا چمڑا ڈھم ڈھم کر سکتا ہے ، تم پیتل کی نفیریوں کے متعلق تو یہ تسلیم کر سکتے ہو کہ وہ راگ الاپ سکتی ہیں، تم فوجی میوزک کے متعلق تو یہ تسلیم کر سکتے ہو کہ وہ گاڈسیو دی کنگ (God save the king) کہہ سکتا ہے مگر تم یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ زمین و آسمان اپنے پیدا کرنے والے کی تسبیح کرتا ہے۔اگر پیتل کی نفیر یاں گیت گا سکتی ہیں ، اگر چمڑے کے ڈھول ڈھم ڈھم کر سکتے ہیں، اگر فوجی میوزک مارسیلز کا گیت گا سکتا یا گاڈ سیو دی کنگ (God save the king) کہہ سکتا ہے، اگر پیانو کی تاریں چھیڑنے سے وہ کئی قسم کی سُریں نکال سکتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ زمیں و آسمان خدا تعالیٰ کی تسبیح نہیں کر سکتے۔یقینا یہ چیزیں بھی خدا تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہیں ہاں فرق صرف یہ ہے کہ جس کے دل میں گند ہوتا ہے وہ گندسُن لیتا ہے۔اور جس کے دل میں پاکیزگی ہوتی ہے وہ پاکیزہ باتیں سن لیتا ہے۔ایک پشتو زبان والا فارسی زبان کو کیا سمجھے اور ایرانی پشتو کو کیا جانے۔جس کے اندر گند ہی گند بھرا ہو ا ہوا سے تسبیح کہاں سے سنائی دے۔پس اصل سوال یہ نہیں کہ کوئی چیز تسبیح کرتی ہے یا