خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 153

خطبات محمود ۱۵۳ سال ۱۹۳۵ء اُنہوں نے دونوں لڈوکھالئے تھوڑی دیر کے بعد حضرت مظہر جان جاناں صاحب نے دریافت کیا کہ میاں غلام علی ! میں نے تمہیں لڈو دیئے تھے وہ کہاں گئے۔انہوں نے کہا حضور ! وہ تو میں نے کھا لئے۔فرمانے لگے میاں! میں نے تو تمہیں دولڈ و دیئے تھے کیا دونوں کھالئے وہ کہنے لگے حضور ! دو کیا اور بھی ہوتے تو منہ میں آجاتے وہ کون سے بڑے ہوتے ہیں۔حضرت مظہر جان جاناں صاحب نے حیرت سے شکل بنا کر ان کی طرف دیکھا اور فرمایا معلوم ہوتا ہے تمہیں لڈو کھانے نہیں آتے پھر کسی دن لڈو آئیں تو مجھے یاد کرانا۔کچھ عرصہ کے بعد پھر کوئی شخص ان کے لئے بالائی کے لڈولا یا ظہر کی نماز پڑھ کر آپ بیٹھے ہی تھے کہ میاں غلام علی صاحب نے ان سے عرض کیا کہ آج لڈو آئے ہیں اور حضور نے وعدہ کیا تھا کہ تم کولڈ وکھانا سکھائیں گے۔مرزا صاحب نے ایک لڈو نکال کر رومال پر رکھ لیا اور اس میں سے ایک چھوٹا سا ٹکڑا توڑ کر منہ میں ڈال لیا اور پھر فرمایا۔میاں غلام علی ! یہ لڈو جو پڑا ہے تم جانتے ہو اس میں ایک چیز نہیں بلکہ کئی چیزیں ہیں اس میں میٹھا ہے ، اس میں گھی ہے ، اس میں بالائی ہے ، پھر اس کے اندر کچھ میدہ بھی ہے ، خوشبو بھی آ رہی ہے پس یہ کئی چیزیں ہوئیں مگر یہ تمام چیزیں حلوائی نے تو نہیں بنا ئیں۔کیا تمہیں کبھی خیال آیا ہے کہ اس کے اندر میٹھا جو پڑا ہے یہ کہاں سے آیا ؟ میٹھا حلوائی نے آخر کسی اور دُکان سے خریدا ہو گا مگر اس دُکان والے نے بھی آپ نہیں بنایا اُس نے زمیندار سے لیا ہو گا مگر زمیندار نے بھی خود نہیں بنایا بلکہ اس نے ایک سال پوری محنت کی ، اُس نے سردی کے موسم میں کنوں کو بونے کی تیاری کی اور دوسرے موسم میں اسے کاٹا۔بارہ مہینے یہ زمین کی گوڈائی کرتا رہا ، گنوں کو پانی دیتا رہا اور یہ ساری محنت خدا تعالیٰ نے اس سے اس لئے کرائی کہ تا مظہر جان جاناں ایک لڈو کھالے۔زمیندار خود ہی محنت نہیں کرتا تھا بلکہ اس کی بیوی بھی محنت کرتی تھی وہ بھی اس کا ہاتھ بٹاتی اس کیلئے وقت پر کھانا کھیت میں لے جاتی۔پھر جب گئے تیار ہو گئے تو اس کی رس نکالی گئی پھر اس سے شکر تیار کی گئی۔وہ شکر انہوں نے بازار میں بیچی اور حلوائی نے اس سے خریدی اور یہ تمام تگ و دو اس لئے ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے چاہا مظہر جان جاناں ایک لڈو کھالے۔اس کے بعد فرما یا زمیندار نے گئے خود تو نہیں بنائے تھے گنے کا بیج اس کے پاس محفوظ تھا جو سالہا سال سے ایک نسل دوسری نسل کو دیتی چلی آئی اور صرف اس لئے کہ مظہر جان جاناں ایک لڈو کھا لے۔اسی طرح ایک ایک چیز کو انہوں نے لیا اور بتایا کہ جب سے دنیا بنی ہے اُس وقت سے ایک لڈو کے بنانے کے لئے سب لوگ محنت کر رہے