خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 10

خطبات محمود +1 سال ۱۹۳۵ء وہ دنیا کی کسی اور قوم میں اس کے بالمقابل آدھی بلکہ اس کا چوتھائی حصہ قربانی کی ہی کوئی مثال پیش کریں۔خواہ انگریزوں کی قوم میں سے کریں، خواہ جرمنوں یا فرانسیسیوں میں سے، یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جماعت میں احساس پیدا ہو رہا ہے مگر مجھے اس امر کا افسوس ہے کہ ہمارے دوستوں میں ابھی استقلال نہیں اور وہ اس کی قیمت کو ابھی تک نہیں سمجھے۔اور اب میرا منشاء یہ ہے کہ دوستوں کے اندر استقلال پیدا کروں چاہے اس کے لئے مجھے ان کے گلوں میں جھولیاں ڈلوانی پڑیں اور بھیک منگوانی پڑے۔اب میں ان کے اندر وہ حالت پیدا کرنا چاہتا ہوں کہ ان کی شکل سے ظاہر ہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کے در کے فقیر ہیں جس جس قدم کو اللہ تعالیٰ ضروری سمجھے گا وہ میں اٹھاتا جاؤں گا اور جس رنگ میں وہ میری ہدایت کرتا جائے گا، میں اسے پورا کرنے کی کوشش کروں گا۔آج میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس سال میرا یہی پروگرام ہے جو سکیم میں بیان ہوا ہے۔پس شاعر اس کے متعلق نظمیں لکھیں۔نقشے بنانے والے اس قسم کے نقشے تیار کریں۔اب میں عملی حصہ کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔سب سے اول یہ کہ میں سائیکلسٹوں کو جلد بھجوانا چاہتا ہوں۔پس چاہئے کہ سائیکلسٹ جلد از جلد دفتر میں حاضر ہوں تا ان کو میں کاموں پر بھیج سکوں۔ایک کام میں تو دیر بھی ہو چکی ہے وہ آج سے تین چار دن پہلے شروع ہو جانا چاہئے تھا اس لئے اب دیر نہیں ہونی چاہئے۔جن طالب علموں نے تین سال کے لئے اپنی زندگیاں وقف کی ہیں ان میں سے پہلے اعلان کے علاوہ بھی بعض لوگ لئے جائیں گے۔بعض نئے کام نکلے ہیں اس لئے انٹرنس سے کم تعلیم رکھنے والے نوجوان جن کے اندر تبلیغ کا مادہ ہو ، وہ بھی اپنے آپ کو پیش کر سکتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی میں جماعت کو تو جہ دلاتا ہوں کہ ہمارے دشمنوں کی طرف سے ہمارے خلاف روز روز شورش پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے، ہمیں ان چیزوں کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے کہیں ہمیں قتل کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، کہیں قتل کے لئے انکیت کی جاتی ہے اور اپنے نام قتل کی دھمکیوں کے جھوٹے خطوط شائع کر کے لوگوں کو احمدیوں کے قتل پر اکسایا جاتا ہے اور حکومت کے بعض افسر بجائے اس کے کہ ایسے لوگوں کو تنبیہہ کریں اور انہیں ایسی حرکات سے روکیں ایسا رویہ اختیار کر رہے ہیں کہ ان کو اور بھی شبہ ہو رہی ہے۔مثلاً بجائے ان کا جھوٹ کھولنے کے ان کی حفاظت کا خاص انتظام کیا جاتا ہے جیسے کوئی واقع میں انہیں قتل کرنے لگا تھا۔ممکن ہے ان باتوں کے نتیجہ میں ہم میں