خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 122

خطبات محمود ۱۲۲ سال ۱۹۳۵ء۔ہر شخص زیادہ سے زیادہ دس ہیں ایکٹر زمین کاشت کر سکتا ہے پس چونکہ ضرورت کے مطابق ہر ایک کو زمین مل سکے گی اس لئے کوئی جھگڑا ان میں نہیں ہو گا لیکن اگر کچھ حصہ زمین کا اچھا ہو اور کچھ خراب تو اچھی بُری زمین پر جھگڑا ممکن ہے یا پانی پر جھگڑا ہو جائے یا چرا گاہ پر یا پھر گھروں میں لڑائیاں ہونی ممکن ہیں لیکن کافی زرخیز زمین کے موجود ہونے کے چراگاہ پر جھگڑا نہیں ہو سکتا غرضیکہ جب فراغت سے چیز میسر ہو تو آپس میں لڑائی کم ہوتی ہے لیکن پانچ چھ گھر سے جب دس ہیں، تمہیں گھر ہوتے جائیں گے تو ان میں لڑائی کے سامان بھی زیادہ ہوتے جائیں گے پس بادشاہت تمدن کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور اس کی ضرورت ذوی العقول اور ذوی الحاجات موجودات کے اکٹھے رہنے سے پیدا ہوتی ہے۔اگر ڈوی العقول نہ ہوں یا میل جول نہ ہو تو بادشاہت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔بادشاہت کی ضرورت انہی وجو ہات کے ماتحت ہوتی ہے اور سب حکومتیں اس ضرورت کے لئے قائم ہوتی ہیں خواہ بعد میں اسے پورا کریں یا نہ کریں۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں بیسیوں حکومتیں قائم ہونے کے بعد اس غرض کو پورا نہیں کرتیں جن کے لئے وہ قائم ہوتی ہیں بلکہ وہ یہ کرتی ہیں کہ زید کو یا بکر کو تو ڑ کر علیحدہ کر دیتی ہیں اور پھر ایک کو ساتھ ملا کر دوسرے کے حقوق تلف کرنے لگ جاتی ہیں۔بعض حکومتوں میں امراء کا زور ہوتا ہے اور وہاں غرباء کی بہت حق تلفی کی جاتی ہے ان سے مفت کام لیا جاتا ہے اور اگر کوئی اُجرت مانگے تو اُسے گالیاں دی جاتیں اور ٹھڈے مارے جاتے ہیں۔تاریخوں میں لکھا ہے کہ فرانس میں پرانے زمانہ میں غرباء سے بہت سخت سلوک کیا جاتا تھا۔بیچارے کسانوں کو گھروں سے زبر دستی باہر نکال دیا جاتا کہ جا کر مینڈکوں کو چُپ کرائیں تا نوابوں کی نیند میں خلل نہ آئے۔وہ بیچارے بیوی بچوں کو ساتھ لے کر باہر نکل جاتے۔ذرا غور تو کر وان غریبوں کی کیا حالت ہوتی ہو گی ؟ بچوں کو گودیوں میں لے کر کناروں پر بیٹھے ہیں تا جب کوئی مینڈک آکر ٹرانے لگے جھٹ روڑا مار کر اُسے چُپ کرا دیں۔یہ بھی بادشاہت تھی۔آج بھی کئی ایسی حکومتیں ہیں جہاں جابرانہ اور متشددانہ کارروائیاں ہوتی ہیں۔پرانے زمانہ میں انگلستان میں بھی کئی ایسی کارروائیاں ہوتی تھیں۔حال ہی میں یورپ نے ایک شخص کو ولی اللہ قرار دیا ہے اور انگریز قوم اس پر خوشی کا اظہار کر رہی ہے اس شخص نے اس لئے بغاوت کی تھی کہ حکومت چاہتی تھی کہ ملک کو مذہب کی قیود سے آزاد کر دے اور اسی بغاوت میں اس نے جان دے دی آج بھی جہاں ابھی منتظم حکومتیں قائم