خطبات محمود (جلد 16) — Page 105
خطبات محمود ۱۰۵ سال ۱۹۳۵ء کھڑا کر دیا جاتا ہے اسی طرح قوم پر عذاب نازل ہونے کے بعد جو مجد دومحد ث پیدا ہوتے ہیں وہ ٹیکیں ہوتے ہیں۔ترقی کا دور پھر واپس نہیں آسکتا جب تک دوبارہ نبی نہ آئے کیونکہ یہ کام خدا تعالیٰ نے محض انبیاء سے مخصوص کیا ہے۔پس عذاب کے بعد قوم دوبارہ اگر ترقی کر سکتی ہے تو نبی کے ذریعہ ہی کسی اور ذریعہ سے نہیں۔چونکہ ممکن ہے وہ بات اس دوست نے اوروں کے آگے بھی بیان کی ہو بلکہ دو تین آدمیوں نے ذکر کیا ہے کہ ان کے پاس بھی انہوں نے یہی بیان کیا کہ ہماری جماعت اس وقت عذاب میں گرفتار ہے اس لئے میں اس حقیقت کو کھول دینا چاہتا ہوں کہ یہ قطعاً عذاب نہیں بلکہ ہمیں ترقی دینے کے لئے اللہ تعالیٰ کا ایک انعامی ابتلاء ہے پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو سزائیں ہوتی ہیں ان کے ساتھ رویا اور الہام کے دروازے نہیں گھلا کرتے مگر اس ابتلاء کے نتیجہ میں میں دیکھتا ہوں کہ مرد کیا اور عورتیں کیا بچے کیا اور بوڑھے کیا ہر ایک کو خوا میں آرہی ہیں اور جس طرح رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ یسرای اویری که که مؤمن یا خود خواب دیکھتا ہے یا اس کے متعلق خواہیں لوگوں کو دکھائی جاتی ہیں۔روزانہ میری ڈاک ایسے خطوط سے بھری ہوئی ہوتی ہے جن میں مختلف خوابوں اور الہامات کا ذکر ہوتا ہے۔خود مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے کی نسبت بہت جلد اور بار بار حالات سے اطلاع دی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ اس فتنہ کے نتائج جماعت کے لئے بہت زیادہ کامیابی اور ترقیات کا موجب ہونگے۔پس اس الہی گواہی کو چھوڑ کر جو قرآن مجید میں آتی ہے، اس الہی گواہی کو چھوڑ کر جس کا پہلے لوگوں میں پتہ چلتا ہے اور اس الہی گواہی کو چھوڑ کر جو آج ہم پر نازل ہو رہی ہے کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ جماعت گندی اور خراب ہو گئی اور خدا اب اس کو پکڑ نا چاہتا ہے۔پس میں یہ الفاظ کہہ کر اپنی جماعت کو غافل نہیں کرنا چاہتا تم میں سے ہر فرد اصلاح کا محتاج ہے بلکہ تم میں سے ہر فرد کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرلے ، وہ معترض بھی اس بات کا محتاج ہے کہ اپنی اصلاح کرے، میں بھی اس بات کا محتاج ہوں کہ اپنی اصلاح کروں، اور تم بھی اس بات کے محتاج ہو کہ اپنی اصلاح کرو۔پس اپنی اصلاح کرنے سے نہ وہ باہر ہے نہ میں نہ تم میں سے کوئی فرد بلکہ اگر تم روحانیت کے لحاظ سے اپنی تکمیل کو پہنچ جاتے ہو تب بھی تم میں اصلاح کی گنجائش ہے۔رسول کریم ﷺ کا عمل تمہارے سامنے ہے۔آپ ہمیشہ یہ دعا کیا کرتے تھے کہ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًات پس ہم نے تو اس مقام تک پہنچنا ہے جس کی انتہاء نہیں۔کسی ایسے مقام پر نہیں پہنچنا