خطبات محمود (جلد 16) — Page 101
خطبات محمود 1+1 سال ۱۹۳۵ء چاہتا۔پس یہ خیال کہ خلافت کی بیعت کے بغیر بھی انسان اسلامی نظام میں اپنے مقام کو قائم رکھ سکتا ہے واقعات اور اسلامی تعلیم کے بالکل خلاف ہے اور جو شخص اس قسم کے خیالات اپنے دل میں رکھتا ہے میں نہیں سمجھ سکتا کہ وہ بیعت کا مفہوم ذرہ بھر بھی سمجھتا ہو۔اس کے بعد میں ایک اور بات بیان کرنا چاہتا ہوں جو مجھے پہنچی ہے اور وہ یہ کہ ایک دوست کے متعلق مجھے بتایا گیا ہے کہ انہوں نے کہا ہماری جماعت پر جو آجکل مشکلات آ رہی ہیں یہ ہماری بعض غلطیوں کی سزا ہے جو ہمیں خدا تعالیٰ کی طرف سے مل رہی ہے اور اس کا علاج صرف یہ ہے کہ تو بہ، استغفار اور دعائیں کی جائیں۔میں اس امر میں ان سے بالکل متفق ہوں کہ ان مشکلات کا علاج تو بہ، استغفار اور دعا ہے اور میں کئی بار پہلے یہ کہ بھی چکا ہوں مگر استغفار اور انابت الی اللہ عذاب کی دوری کے لئے ہی ضروری نہیں ہوتی بلکہ ہر حالت میں ضروری ہوتی ہے۔رسول کریم ﷺ کی ذات تو عذاب سے بالکل پاک تھی بلکہ اللہ تعالیٰ یہاں تک فرماتا ہے کہ جہاں تو ہو اس مقام پر بھی عذاب نازل نہیں ہو سکتا۔مگر رسول کریم اللہ استغفار کرتے اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے رہتے۔پس جب میں اپنی جماعت سے یہ کہتا ہوں کہ وہ استغفار کرے اور دعاؤں پر زور دے تو اس کے ہرگز یہ معنی نہیں ہوتے کہ ہماری جماعت کسی عذاب میں گرفتار ہے اس کے ازالہ کے لئے اسے دعائیں کرنی چاہئیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت اس وقت ایک ایسے مقام پر کھڑی ہے کہ اس کے بعض افراد سے غلطی بھی ہوسکتی ہے مگر بحیثیت مجموعی وہ خدا کے عذاب کی نہیں بلکہ اس کی رحمت کی مستحق ہے۔میں وہ شخص ہوں جس نے اپنی جماعت کی غلطیاں بیان کرنے سے کبھی دریغ نہیں کیا ہر وہ شخص جو میرے خطبات پڑھنے کا عادی ہے میرے اس قول کی سچائی کی شہادت دے سکتا ہے کہ میں نے ہمیشہ کھلے الفاظ میں جماعت کو اسکی غلطیوں پر تنبیہ کی اور ایسے کھلے الفاظ میں اسے ڈانٹا کہ دشمنوں نے میرے اس قسم کے الفاظ سے بعض دفعہ نا جائز فائدہ اُٹھانا چاہا۔پس میں ان لوگوں میں سے ہرگز نہیں جنہیں اپنے لوگوں کی ہمیشہ خوبیاں ہی خو بیاں نظر آتی ہیں اور عیب دیکھنے سے ان کی آنکھ بند ہوتی ہے جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ کسی بادشاہ نے ایک دفعہ ایک حبشی کو ٹوپی دے کر کہا کہ سب سے زیادہ خوبصورت بچہ جو تمہیں نظر آئے اس کے سر پر یہ رکھ دو۔اس نے ٹوپی اٹھائی اور اپنے کالے کلوٹے بچہ کے سر پر جس کی ناک بہتی تھی جا کر ٹوپی رکھ دی۔بادشاہ نے