خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 98

خطبات محمود ۹۸ سال ۱۹۳۵ء دونوں اطاعتوں میں ایک امتیاز اور فرق ہوتا ہے اور وہ یہ کہ نبی کی اطاعت اور فرمانبرداری اس وجہ سے کی جاتی ہے کہ وہ وحی الہی اور پاکیزگی کا مرکز ہوتا ہے مگر خلیفہ کی اطاعت اس لئے نہیں کی جاتی کہ وہ وحی الہی اور تمام پاکیزگی کا مرکز ہے بلکہ اس لئے کی جاتی ہے کہ وہ تنفیذ وحی الہی اور تمام نظام کا مرکز ہے۔اسی لئے واقف اور اہلِ علم لوگ کہا کرتے ہیں کہ انبیاء کو عصمت گبر کی حاصل ہوتی ہے اور خلفاء کو عصمت صغریٰ۔اسی مسجد میں اسی منبر پر جمعہ کے ہی دن حضرت خلیفہ اول سے میں نے سنا آپ فرماتے تھے کہ تم میرے کسی ذاتی فعل میں عیب نکال کر اس اطاعت سے باہر نہیں ہو سکتے جو خدا نے تم پر عائد کی ہے کیونکہ جس کام کے لئے میں کھڑا ہوا ہوں وہ اور ہے اور وہ نظام کا اتحاد ہے اس لئے میری فرمانبرداری ضروری اور لازمی ہے۔تو انبیاء کے متعلق جہاں الہی سنت یہ ہے کہ سوائے بشری کمزوریوں کے جس میں تو حید اور رسالت میں فرق ظاہر کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ دخل نہیں دیتا اور اس لئے بھی کہ وہ امت کی تربیت کیلئے ضروری ہوتی ہیں (جیسے سجدہ سہو کہ وہ کھول کے نتیجہ میں ہوتا ہے مگر اس کی ایک غرض امت کو سہو کے احکام کی عملی تعلیم دینا تھی ) ان کے تمام اعمال خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہوتے ہیں وہاں خلفاء کے متعلق خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ انکے وہ تمام اعمال خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہو نگے جو نظام سلسلہ کی ترقی کے لئے اُن سے سرزد ہونگے اور کبھی بھی وہ کوئی ایسی غلطی نہیں کریں گے اور اگر کریں تو اس پر قائم نہیں رہیں گے جو جماعت میں خرابی پیدا کرنے والی اور اسلام کی فتح کو اس کی شکست سے بدل دینے والی ہو۔وہ جو کام بھی نظام کی مضبوطی اور اسلام کے کمال کے لئے کریں گے خدا تعالیٰ کی حفاظت اس کے ساتھ ہو گی اور اگر وہ کبھی غلطی بھی کریں تو خدا اس کی اصلاح کا خود ذمہ دار ہو گا۔گویا نظام کے متعلق خلفاء کے اعمال کے ذمہ دار خلفاء نہیں بلکہ خدا ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خلفا ء خود قائم کیا کرتا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ غلطی نہیں کر سکتے بلکہ مطلب یہ ہے کہ یا تو ان ہی کی زبان سے یا عمل سے خدا تعالیٰ اس غلطی کی اصلاح کرا دے گا یا اگر ان کی زبان یا عمل سے غلطی کی اصلاح نہ کرائے تو اس غلطی کے بدنتائج کو بدل ڈالے گا۔اگر اللہ تعالیٰ کی حکمت چاہے کہ خلفاء کبھی کوئی ایسی بات کر بیٹھیں جس کے نتائج بظاہر مسلمانوں کے لئے مضر ہوں اور جسکی وجہ سے بظاہر جماعت کے متعلق خطرہ ہو کہ وہ بجائے ترقی کرنے کے تنزل کی طرف جائے گی تو اللہ تعالیٰ نہایت مخفی سامانوں سے اس غلطی کے نتائج کو بدل دے گا اور جماعت