خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 90

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء کہتا ہو کہ نہ مجھ میں علم ہے ، نہ طاقت، نہ قوت ہے، نہ دولت ، میں جاہل ہوں ، کمزور ہوں، غریب ہوں اور میرے سب کام اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے وہ مشکلات سے کب گھبر اسکتا ہے۔میں نے کبھی نہیں کہا کہ میں بڑا عالم ہوں بلکہ ہمیشہ یہی کہتا رہا ہوں کہ میں کچھ پڑھا لکھا نہیں ہوں مجھے نہ انگریزی آتی ہے نہ کوئی اور علم۔مجھے صرف ایک ہی علم آتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی نصرت کا علم ہے اس سے میں نے ہر میدان میں غلبہ حاصل کیا ہے اور اسی نے میرے لئے ہر تاریکی کو روشنی سے بدل دیا اور جس کا ہر لمحہ اسی میں گزرا ہو وہ بھلا کب مایوس ہو سکتا ہے۔میں اپنے سہارے پر نہیں کھڑا ہوں بلکہ مجھے کھڑا کرنے والی ایک اور طاقت ہے۔جب تک مجھے اس کا سہارا ہے نہ میری موت مجھے نقصان پہنچا سکتی ہے اور نہ حیات خطرات میں ڈال سکتی ہے۔رسول کریم ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں مگر کیا ان کا کام رُک گیا۔میں اس بات سے نہیں گھبرا تا اگر مشیت ایزدی یہی ہے کہ میری موت واقعہ ہو جائے تو یقیناً اسلام کی اور میری بہتری اسی میں ہے اور اگر مشیت الہی مجھے زندہ رکھنا چاہتی ہے تو اسلام اور میری بہتری اسی میں ہے۔کبھی الہامی عبارتوں میں موت کے معنی ایک حالت سے دوسری میں انتقال کے بھی ہوتے ہیں دنیا میں انسان ہزاروں دفعہ زندہ ہوتا اور ہزاروں دفعہ مرتا ہے۔کسی کو ایک بیوی سے انتہائی محبت ہوتی ہے مگر کسی وجہ سے وہ ٹوٹ جاتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انسان جو اُس عورت سے محبت کرتا ہے مر گیا، کبھی کسی انسان کو بدی سے محبت ہوتی ہے پھر وہ نیک ہو جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پہلا انسان مر گیا اور دوسرا پیدا ہوا۔پس کسی کو کیا معلوم ہے کہ موت کے کیا معنی ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ میں پہلے مریم تھا پھر عیسی ہوا اور پھر بروز محمد ﷺ۔یہ بھی گویا موت اور حیات کا ایک سلسلہ تھا اس لئے کسی کو کیا معلوم ہے کہ اس موت سے کیا مفہوم ہے ہاں مجھے اس پر وثوق حاصل ہے کہ اسی وقت اگر میری جان چلی جائے تو جو باتیں میں نے کہی ہیں وہ قائم رہیں گی اور انہیں کوئی نہیں مٹا سکتا میں نے وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کہی ہیں اور اس لئے وہ ہمیشہ قائم رہیں گی۔درمیان میں گو بظا ہرا ایسا معلوم ہو کہ دشمن نے انہیں مٹا دیا مگر وہ نہیں مٹیں گی۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو باتیں آتی ہیں ان کی مثال اس کھلونے کی سی ہوتی ہے جسے آپ میں سے بعض نے دیکھا ہوگا ایک بڑھے بابا کی شکل بنائی ہوتی ہے جس کے سفید بال ہوتے ہیں وہ بکس میں بند ہوتا ہے اس کے ڈھکنے کو جب بند