خطبات محمود (جلد 16) — Page 813
خطبات محمود ۸۱۳ سال ۱۹۳۵ء کو پتہ لگ گیا کہ آپ رات کو چلے گئے ہیں اس لئے کھوجیوں کو بلایا گیا اور تعاقب کیا گیا۔کھوجی تعاقب کرنے والوں کو لیکر اس غار پر پہنچا اور کہا کہ نشان یہیں تک ہے یا تو وہ اس غار کے اندر ہیں اور یا آسمان پر چلے گئے ہیں۔عرب کے کھو جی بہت ماہر ہوتے تھے اور اُن کی بات پر اعتبار کیا جاتا تھا لیکن اُس وقت اللہ تعالیٰ نے کچھ ایسا تصرف اُن کے دلوں پر کیا کہ باوجود کھوجی کے اصرار کے اُنہوں نے یقین نہ کیا کہ آپ اس غار میں ہیں۔وجہ یہ ہوئی کہ غار کے ارد گرد اُس کے دہانہ پر جھاڑیاں ہیں رسول کریم ﷺ کے اندر جانے کے بعد ان پر مکڑیوں نے جالاتن دیا۔ہر شخص جانتا ہے کہ مکڑی ایک منٹ میں جالاتن دیتی ہے۔ہم بچپن میں یہ کھیل دیکھا کرتے تھے کہ ایک مکڑی نے جالا نتنا شروع کیا ہے اور ایک منٹ میں تن دیا ہے مگر تصرف الہی کے ماتحت اُن کی عقل ایسی ماری گئی کہ انہوں نے خیال کیا کہ اس غار میں کوئی نہیں اُترا کیونکہ اگر کوئی اُتر تا تو یہ جالے ٹوٹ جاتے۔اُس وقت جب کھوجی یہ باتیں کر رہا تھا کہ آپ یا اس غار میں ہیں یا آسمان پر چلے گئے ہیں ، اُس وقت کیا مشکل تھا کہ وہ نیچے جھانک کر دیکھ لیتے مگر یہ بھی ایک معجزہ ہے کہ کسی کو اس کی توفیق نہ ہوئی۔لیکن کھوجی کے یہ الفاظ کہنے سے خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ مکہ کے لوگ ضرور غار کے اندر اُتر کر دیکھیں گے۔پس اُس وقت حضرت ابو بکڑ نے گھبرا کر کہا کہ یا رَسُولَ اللهِ اب کیا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا کہ گھبراہٹ کی بات نہیں۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ يَا رَسُولَ اللہ مجھے اپنے متعلق تو کوئی گھبراہٹ نہیں۔کیونکہ اگر میں مارا گیا تو میں ایک فرد ہوں مجھے آپ کے متعلق فکر ہے کیونکہ اگر آپ مارے گئے تو دین اور اُمت تباہ ہو جائیں گے۔یہ محبت بھرے الفاظ اللہ تعالیٰ کو اس قدر پسند آئے کہ رسول کریم کو وحی ہوئی کہ اپنے ساتھی سے کہ دو کہ لَا تَحْزَنُ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا۔کے جس کا مطلب یہ تھا کہ اے رسول ! تو ابو بکر سے کہہ دے کہ رسول کے لئے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔اللہ نہ صرف اس کا بلکہ اس کا ساتھی ہونے کی وجہ سے تیرا بھی محافظ ہے۔بعض نادان اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ گھبرا گئے مگر یہ نہیں سوچتے کہ یہ گھبراہٹ اپنے لئے نہیں تھی بلکہ رسول کریم ﷺ کی خاطر تھی۔آپ کی اس حرکت پر ایک اعتراض ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ کیا ان کا یہ ایمان نہ تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔اور اس کا جواب یہ ہے کہ ” عشق است و ہزار بد گمانی جب عشق کمال کو پہنچ جائے تو اس کے ماتحت کئی قسم کے تو ہمات شروع ہو جاتے ہیں اور وو