خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 801 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 801

خطبات محمود ۸۰۱ سال ۱۹۳۵ء احساس کرتے تو یہاں سے ہی دو اڑھائی ہزار آدمی مل سکتا تھا۔اور اگر قریب کی جماعتیں مثلاً ضلع گورداسپور ، اضلاع لاہور، سیالکوٹ ، گجرات ، جالندہر، ہوشیار پور ، امرتسر کی جماعتیں بھی اس تحریک پر صیح طور پر لبیک کہتیں تو اتنے آدمی مل سکتے تھے کہ تبلیغ کے موجودہ میدانوں کو بہت زیادہ وسیع کیا جا سکتا تھا۔مگر اب تو یہ حال ہے کہ صرف چار علاقوں میں تبلیغ ہو رہی ہے اور ان کے لئے بھی کافی آدمی نہیں مل رہے حالانکہ یہ بہت ہی مفید کام ثابت ہوا ہے۔کئی نئی جماعتیں پیدا ہوئی ہیں اور کئی قائم ہونے والی ہیں۔کئی لوگ ایسے ہیں جو توجہ کر رہے ہیں اور کئی علاقے ایسے ہیں کہ جہاں لوگوں کے لوگ جماعت در جماعت سلسلہ میں داخل ہونے کی توقع ہے۔مگر نقص یہ ہے کہ اگر ایک دفعہ ہیں آدمی اس علاقہ میں گئے ہیں تو دوسری دفعہ دس ہی بھیجے جا سکے ہیں اور بقیہ دس لوگوں کے زیر تبلیغ رہ چکنے والوں کو جو سلسلہ کے قریب ہو چکے تھے خالی چھوڑ دینا پڑا ہے۔زیر تبلیغ لوگوں کے لئے مسلسل تبلیغ کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔اور جو لوگ احمدیت میں داخل ہو کر پکے نہیں ہو جاتے ، اُن کے لئے ایک مہینہ کا وقفہ بھی مضر ہوتا ہے۔جس طرح بچے ایک ماہ کی رُخصتوں کے بعد آتے ہیں تو پہلا لکھا پڑھا اُنہیں سب کچھ بھول چکا ہوتا ہے اسی طرح جو لوگ مذہب کو پوری طرح سمجھ نہ چکے ہوں انہیں ایک ماہ بھی خالی چھوڑ دیا جائے تو وہ سب کچھ بھول جاتے ہیں۔پس جماعت کے دوستوں کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے کہ وہ ہر فن اور ہر پیشہ کے لوگ کم سے کم ایک ماہ تبلیغ کے لئے وقف کریں ان کے علاوہ دو سو ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے جودو تین ماہ دے سکیں تا انہیں انچارج بنایا جا سکے۔لیکن ایسے لوگ نسبتا زیادہ تعلیم یافتہ ہونے چاہئیں کیونکہ انہیں رپورٹیں لکھنی ہوں گی۔اور اگر کسی جگہ احمد یوں کو دُکھ دیا جا رہا ہو تو افسروں سے بھی ملنا ملانا پڑے گا۔اس لئے یہ لوگ پڑھے لکھے اور تجربہ کار ہوں۔اگر جماعت کے لوگ اس طرح اپنے آپ کو تبلیغ کے لئے وقف کریں تو نہ صرف یہ کہ ان کے علم اور تجربہ میں زیادتی ہوگی بلکہ چند سالوں میں ہماری تبلیغ میں بھی اتنی وسعت پیدا ہو جائے گی جو کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں۔گھروں میں بے شک تبلیغ کرومگر اس طرح ایک ایک مہینہ کے لئے وقف کرنا کئی لحاظ سے فائدہ مند ہے۔جو لوگ اس طرح تبلیغ کے لئے گئے ہیں ان میں سے کئی اگر چہ کورے ہی واپس آئے ہیں مگر بہت سے ہیں جن کے اندر یہ احساس پیدا ہو چکا ہے کہ ہمیں اپنے علم میں اضافہ کرنا چاہئے تا آئندہ زیادہ اچھی طرح تبلیغ کر سکیں۔یہ رکوع جس کی میں نے آج تلاوت کی ہے اس میں