خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 794 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 794

خطبات محمود ۷۹۴ سال ۱۹۳۵ء ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایمان کا درجہ وہی ہوتا ہے جوموت کے وقت انسان کو حاصل ہو۔اگر پہلے تم نے زیادہ خدمات کی ہیں تو وہ قیامت کے دن کام نہیں آسکیں گی قیامت کے روز کام آنے والی خدمت وہی ہوتی ہے جو مسلسل جاری رہے اور جو موت تک کی جائے۔اس کے بعد میں اختصار کے ساتھ ایک رقعہ کا ذکر کرتا ہوں جو ابھی مجھے دیا گیا ہے جس میں لکھا ہے کہ مولوی ابو الفضل صاحب گاڑی میں آ رہے تھے بٹالہ سٹیشن پر انہوں نے کچھ اشتہار اور ٹریکٹ وغیرہ تقسیم کئے تو احراریوں نے انہیں گالیاں دیں اور دھکے مارے۔اور لکھا ہے کہ اب بات حد سے بڑھتی جارہی ہے ایسے سب دوستوں کو میں توجہ دلاتا ہوں کہ کوئی بات حد سے نہیں بڑھا کرتی۔انسانی اعمال جن میں الہی تصرفات کا دخل نہ ہو ، ان کے متعلق تو بے شک یہ بات کہی جاسکتی ہے لیکن جو باتیں اللہ تعالیٰ کے تصرفات اور تقدیر کے ماتحت ہو رہی ہوں وہ حد سے نہیں بڑھا کرتیں۔اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور مأمورین جب آتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی تائید و نصرت کے بھی اتنے سامان پیدا کرتا ہے جتنے ضروری ہوتے ہیں۔اور مخالفت بھی اتنی ہی کراتا ہے جتنی ضروری ہوتی ہے۔اور جتنی مخالفت بڑھے سمجھ لو اللہ تعالیٰ اتنی ہی تمہاری خامیاں دور کرنا چاہتا ہے۔کون شخص پسند کرتا ہے کہ اُس کے عزیز کو گالیاں ملیں۔کیا تم میں سے کوئی شخص کبھی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے سامنے اس کے بیوی بچوں کو گالیاں دی جائیں ؟ پھر اللہ تعالیٰ کو یہ بات کس طرح پسند ہوسکتی ہے کہ اس کے نبیوں اور مامورین کو گالیاں ملیں۔اور اگر وہ ان گالیوں کو جاری رہنے کی اجازت دیتا ہے تو تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ وہ ایسا تمہاری اصلاح کے لئے کرتا ہے۔یہ کفارہ ہے جو انبیاء اپنی جماعت کے لئے ادا کرتے ہیں حضرت مسیح ناصری کے متعلق جس کفارہ کا مسیحی لوگ عقیدہ رکھتے ہیں ہم اُس کے منکر ہیں۔اور اس قسم کا کفارہ واقعہ میں خلاف عقل ہے۔مگر یہ صورت جو میں نے بتائی ہے کفارہ کی جائز صورت ہے۔اور یہ کفارہ سب انبیاء اپنی اُمتوں یا جماعتوں کے گناہوں اور کوتاہیوں کے دور کرنے کے لئے ادا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ دشمنوں کو کھلا چھوڑ دیتا ہے کہ وہ اس کے ما موروں کو گالیاں دیں تا اُن کی جماعتوں کے دل میں درد پیدا ہو اور وہ اپنی اصلاح کریں۔اللہ تعالیٰ یہ بات اس لئے نہیں کرتا کہ مؤمن ان گالیاں دینے والوں سے لڑیں اور فساد کریں بلکہ اس لئے ہوتا ہے کہ وہ اپنے نفسوں کے ساتھ لڑائی کریں اور اپنی اصلاح کریں۔پس جس دن تم اپنی اصلاح مکمل کر لو گے اللہ تعالیٰ کے فرشتے اُسی دن