خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 776 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 776

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء دیں گے آج ایک ضروری کام پڑ گیا تھا۔تم کسی کے سامنے یہ نہیں کہتے کہ آج تم نے چوری کی تم کسی کے سامنے یہ نہیں کہتے کہ آج تم نے زنا کیا، تم کسی کے سامنے یہ نہیں کہتے کہ آج تم نے ڈاکہ ڈالا تم کسی کے سامنے یہ نہیں کہتے کہ آج تم نے جھوٹ بولا۔مگر تم نہایت ہی بے تکلفی سے کہہ دیتے ہو کہ آج مجھے ایک کام تھا اس لئے نماز کے واسطے مسجد میں نہ آ سکا۔یہ کتنی مُردہ جس ہے کہ نہ صرف مجرم کیا جاتا ہے بلکہ اتنا بڑا جرم کرنے کے بعد جس پر قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑے جب پوچھا جاتا ہے تو بے تکلفی سے کہہ دیا جاتا ہے کہ آج مجھے ایک کام پڑ گیا تھا۔ذرا سوچو تو کہ کیا دُنیوی نوکریوں کے متعلق بھی اس قسم کے عذرات کئے جاسکتے ہیں؟ اور کیا جن عذرات پر تم نماز ترک کر دیتے ہو انہی عذرات پر اگر ملا زمت کے سلسلہ میں ناغہ کرو تو تم ملازم رہ سکتے ہو؟ میں نے اسی وجہ سے مساجد کی الگ الگ کمیٹیاں بنائی تھیں تا وہ لوگوں کے متعلق یہ نگہداشت رکھیں کہ آیا وہ نمازوں میں شامل ہوتے ہیں یا نہیں۔مگر اب تک انہوں نے کوئی کام نہیں کیا بلکہ ہماری مساجد کے سارے پریذیڈنٹوں کو نیشنل لیگ کے ایک سالار جیش نے شکست دے دی۔اور ساتھ ہی اس احمدی لڑکے نے ثابت کر دیا ہے کہ جماعت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسے نوجوان موجود ہیں کہ جب کام کا وقت آئے تو خواہ حالات کچھ ہوں وہ کام پورا کر کے دکھا سکتے ہیں۔مجھے اس امر کا خیال کر کے کہ ہمارے نوجوانوں میں وہ روح موجود ہے کہ اگر اسے اُبھارا جائے تو اللہ کے فضل سے ان میں ایسے افراد موجود ہیں جو ہر قربانی کر کے کام کو پورا کر دیں گے اس قدرخوشی ہوتی ہے کہ جیسے کہتے ہیں فلاں شخص کو بادشاہت مل گئی یہ ایک مثال ہے ورنہ بادشاہت اس رتبہ کے مقابل کیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عنایت فرمایا ہے۔حقیقتا میرا دل اس نوجوان کے کام سے اتنا خوش ہے کہ باوجود اس کے کہ اس سے غلطیاں ہوئیں اور بیسیوں شکایات میرے پاس پہنچیں پھر بھی میرا دل خوشی سے اتنا بھرا ہوا تھا کہ مجھ پر ان شکایات نے کوئی اثر نہیں کیا۔اگر محلوں کے پریذیڈنٹ بھی یہ سمجھتے کہ جو کام ان کے سپرد کیا گیا ہے اسے انہوں نے بہر حال کرنا ہے تو نماز میں اتنی سستی کیوں ہوتی۔میں یہ نہیں کہتا کہ والینٹیئروں سے سستی نہیں ہوئی بعض دفعہ ہوئی مگر نمازوں کی سستی سے بہت کم اور ذمہ داری کا احساس بہت زیادہ دکھایا گیا۔اور جب کسی پر ذمہ داری کا احساس غالب آ جاتا ہے تو پھر وہ یہ نہیں سوچتا کہ میرے راستے میں کون سی روکیں ہیں اور نہ