خطبات محمود (جلد 16) — Page 743
خطبات محمود ۷۴۳ ۴۴ سال ۱۹۳۵ء قربانیوں کی کوئی حد مقرر نہیں کی جاسکتی فرموده۲۹ /نومبر ۱۹۳۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میں نے پچھلے سے پچھلے جمعہ کے خطبہ میں چندہ تحریک جدید کے متعلق اعلان کیا تھا اس وقت تک اس کے متعلق جو وعدے آچکے ہیں وہ میرے اندازہ میں اٹھارہ ہزار کے ہیں۔ان میں صرف تین یا چار جماعتوں کے وعدے ہیں باقی افراد کی طرف سے ہیں۔ان کی زیادتی کا میں صحیح اندازہ تو نہیں کر سکتا مگر اس وقت تک کے وعدوں سے پتہ لگتا ہے کہ اس سال ۳۵ فیصدی کی زیادتی ہے یعنی اٹھارہ ہزار کے وعدے جن لوگوں کی طرف سے ہیں گزشتہ سال ان کے وعدے ساڑھے تیرہ ہزار کے تھے اور ابھی ان میں وہ وعدے بھی شامل ہیں جو یا تو گزشتہ سال کے برابر ہیں اور یا گزشتہ سال سے کم ہیں ورنہ افراد کو لیا جائے تو بعض نے ڈیوڑھا، بعض نے دو گنا وعدہ کیا ہے اور بعض نے اس سے کم زیادتی کی ہے۔یہ یا درکھنا چاہئے کہ بعض مخلصین نے گزشتہ سال اپنا سارا اندوختہ دے دیا تھا اور جس نے اپنا سارا اندوختہ گزشتہ سال دے دیا ہو وہ یقینا اس سال گزشتہ سال کے برابر حصہ نہیں لے سکے گا۔ان کے علاوہ بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو گزشتہ سال کچھ نہ کچھ ذرائع آمدنی رکھتے تھے مگر اس سال نہیں رکھتے۔پھر بعض ایسے بھی ہیں جن پر اس سال میں کوئی مالی بوجھ پڑ گیا ہے باقی لوگوں میں سے جو دینے کے قابل تھے اکثر ایسے ہیں جنہوں نے اپنا چندہ بڑھایا ہے۔بعض نے کم زیادتی کی ہے مگر اس اصول کو مدنظر رکھا ہے جس کا میں نے اعلان کیا تھا کہ جو لوگ زیادتی نہ کر سکیں وہ قلیل زیادتی ضرور کر