خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 742 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 742

خطبات محمود ۷۴۲ سال ۱۹۳۵ء ہوئی ہے۔وہ اِن سب باتوں کو بھول گئی اور اسے صرف یہ بات یادر ہی کہ اسے اس کا بچہ مل گیا ہے مگر یراطمینان اسے کب حاصل ہوا ؟ جب اُسے اُس کا بچہ مل گیا اس سے پہلے اُس نے کوئی آرام نہیں کیا کسی بات سے تسلی نہیں پائی کسی خوف نے اسے نہیں ڈرایا۔اب میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ہماری محبت اللہ تعالیٰ سے اتنی بھی نہیں جتنی اس عورت کو اپنے بچہ سے تھی ؟ کیا جس طرح وہ عورت تمام خطرات سے غافل ہو کر اپنے بچہ کی تلاش میں مشغول تھی اسی طرح ہم اپنے ازلی ابدی محبوب کی تلاش میں نہیں لگ سکتے ؟ اور کیا ذرا ذرا سا خطرہ اور چھوٹی چھوٹی قربانی ہمیں ڈرا دیتی ہے؟ یا بغیر اس کے کہ وہ پیارا ہمیں ملے ہم تسلی پا کر بیٹھ جاتے اور بغیر اس کے کہ اس کا دیدار ہمیں حاصل ہو ہم جد و جہد کو چھوڑ بیٹھتے ہیں ؟ اگر ایسا ہے تو لعنت ہے ہمارے عشق پر اور لعنت ہے ہماری محبت پر۔التوبة: ۳۸ تا ۴۲ (الفضل ۲۹ نومبر ۱۹۳۵ء) التوبة: ١ تا ٦ بخاری کتاب بدء الوحى باب كَيْفَ كَانَ بَدْء الوحى إِلَى رَسُول الله قمچیاں : کوڑے۔تازیانے۔چابکیں۔چھڑی۔پتلی اور لچکدار ٹہنیاں تذکرہ صفحہ ۱۰۔ایڈیشن چہارم تذکرہ صفحہ ۳۱۲۔ایڈیشن چہارم بخاری کتاب الادب باب رحمة الولد و تقبيله و معانقته