خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 723 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 723

خطبات محمود ۷۲۳ سال ۱۹۳۵ء میں یہ شور مچانے لگ گئے کہ قادیانی مباہلہ سے بھاگ گئے ہیں۔ہر شخص مجھ سکتا ہے کہ یہ طریق اللہ تعالی کی خشیت کا نہیں اور یہ کہ ان کے مد نظر مباہلہ کرنا نہیں تھا بلکہ صرف یہ غرض تھی کہ کسی طرح انہیں قادیان میں جلسہ کرنے کا موقع مل جائے۔مگر جب ہم نے اس حقیقت کو واضح کر دیا اور گورنمنٹ کو بھی معلوم ہو گیا کہ یہ مباہلہ کے لئے قادیان نہیں آنا چاہتے بلکہ اُن کا مقصد یہ ہے کہ قادیان میں کانفرنس منعقد کریں چنانچہ ان کا ایک اشتہار قادیان کے ارد گرد کے دیہات میں تقسیم ہوتا ہوا پکڑا گیا جس میں صاف لکھا تھا کہ پچھلے سال قادیان میں جو کا نفرنس ہوئی تھی ، اس میں نصف لاکھ کے قریب مسلمان جمع ہوئے تھے حالانکہ کا نفرنس کا پہلا سال تھا مگر اس سال لاکھوں کی تعداد میں مسلمان قادیان میں جمع ہونے والے ہیں۔تو گورنمنٹ نے چونکہ انہیں قادیان اور اس کے ارد گرد آٹھ آٹھ میل کے حلقہ میں کوئی کانفرنس یا جلسہ کرنے کی ممانعت کی ہوئی ہے اس لئے اس نے اپنے قانون کے ادب اور احترام کے لئے انہیں پھر ممانعت کا نوٹس دے دیا۔میں نے احرار کے مباہلہ کے متعلق چھ جھوٹ ثابت کر کے آج ہی ایک اشتہار دیا ہے۔اور ہر بات کے غلط ثابت ہونے پر ان کے لئے ایک ایک سو روپیہ کا انعام مقرر کیا ہے اور میں نے بعض غیر احمدیوں کو ہی اِس معاملہ میں ثالث تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے اور میں نے لکھا ہے کہ اگر وہ اپنے دعوؤں میں بچے ہیں تو وہ اپنے ان ہم عقیدہ ثالثوں کے ذریعہ فیصلہ کرا کے انعام لے لیں۔چنانچہ ڈاکٹر سیف الدین صاحب کچلو کو میں نے پیش کیا ہے جو کانگرس کے لیڈر رہ چکے ہیں۔اور میں نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر انہیں ڈاکٹر سیف الدین صاحب کچلو کی شخصیت پر اعتراض ہو تو مولانا ابو الکلام صاحب آزاد سے فیصلہ کرا لیں۔یہ بھی مسلمانوں کے لیڈر سمجھے جاتے تھے بلکہ اب تک سمجھے جاتے ہیں۔اور ملک وقوم کی خاطر جیل خانوں میں بھی رہے ہیں یا مسٹر عبد اللہ یوسف علی صاحب۔آئی ہی۔ایس۔ریٹائرڈ حال پرنسپل اسلامیہ کالج لاہور کو ثالث تسلیم کر لیں یا سر محمد یعقوب صاحب کو جو پہلے اسمبلی کے صدر بھی رہے ہیں ثالث تسلیم کر لیں۔اگر وہ ان میں سے کسی کو بھی ثالث تسلیم کر لیں تو وہ جس وقت چاہیں ہم چھ سو رو پیدان کے پاس جمع کرا دیں گے اور روپیہ جمع کرانے کے پندرہ دن کے اندر اندر اگر احرار اپنے دعووں کا ثبوت دے دیں اور ثالث ان کے حق میں فیصلہ کر دے تو جمع شدہ روپیہ ثالث فوراً ان کو دے دے گا۔اور اگر فیصلہ ہمارے حق میں ہو یا پندرہ دن کے اندر اندر احرار ثبوت پیش نہ کریں تو روپیہ ہمیں واپس مل جائے مگر