خطبات محمود (جلد 16) — Page 637
خطبات محمود ۶۳۷ سال ۱۹۳۵ء ادب اسلام کا اس رئیس کے دل میں تھا وہ بھی جاتا رہا۔تو لوگوں کو سمجھانے کا طریق بھی عمدہ ہونا چاہئے۔اگر انسان ایسی جہالت سے بات کرے کہ دوسرا اس کی بات کو سمجھ تو جائے مگر تکبر اور غرور کی وجہ سے وہ اس کی بات ماننے کے لئے تیار نہ ہو تب بھی کیا فائدہ ؟ پھر قوت عملیہ کی ضرورت بھی ہوا کرتی ہے۔اگر سمجھانے والے میں قوت عمل نہیں تب بھی اُس کی بات کا لوگوں پر اثر نہیں ہوسکتا۔ایک شخص دوسرے کو بُری باتوں سے بچنے کی نصیحت کرتا ہے لیکن اگر وہ خود چوری کرتا ، گالیاں دیتا اور لوگوں سے ٹھٹھا کرتا رہتا ہے تو اُس کی بات کا کیا اثر ہو سکتا ہے۔وہ اگر کہتا ہے کہ خدا کا ایک مأمور دنیا میں آ گیا، مسیح و مہدی جس کی امت محمدیہ کو انتظار تھی قرآنی وعدوں کے مطابق مبعوث ہو گیا تو بیشک لوگ اُس کی بات کو قبول کرنے پر آمادہ ہو جائیں گے لیکن جب وہ اُس کی عملی حالت کو دیکھیں گے تو اُس کا عمل ان کی ہدایت کے رستہ میں روک بن جائے گا۔پنجاب کا ایک مشہور واقعہ ہے۔دیال سنگھ کالج ، دیال سنگھ لائبریری اور ٹریبیون یہ پنجاب میں بہت بڑا علمی کام کرنے والے ادارے ہیں جو بر ہمو سماج کے قبضہ میں ہیں۔ٹریبیون ہندوؤں کی طاقت کا زبر دست ذریعہ ہے۔دیال سنگھ لائبریری نہایت مفید کام کر رہی ہے اور دیال سنگھ کا لج تعلیمی لحاظ سے اچھی شہرت رکھتا ہے۔ان کے بانی دیال سنگھ نامی ایک سکھ سردار تھے انہوں نے جب مذاہب کا مطالعہ کیا تو آہستہ آہستہ ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ میرا مذہب مجھے نجات نہیں دے سکتا کسی اور مذہب میں مجھے داخل ہونا چاہئے اتفاقاً انہیں ایک مسلمان مل گیا جو قرآن کریم سمجھتا اور سمجھا بھی سکتا تھا۔کچھ دنوں تک وہ اس سے اسلام کے متعلق واقفیت حاصل کرتے رہے اور آخر انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب میں مسلمان ہوتا ہوں۔جب یہ خبر لوگوں میں پھیلی تو ایک ہندو جو نہایت چالاک اور ہوشیار تھا ان کے پاس آیا۔اُس نے چونکہ سمجھ لیا تھا کہ اب دیال سنگھ پر مذہبی دلائل کا اثر نہیں ہو سکتا اس لئے اُس نے چاہا کہ دوسرے چکروں میں ڈال کر انہیں اسلام سے روکا جائے۔یہ سوچ کر اُس نے کہا آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ مذہب کی تبدیلی سے آپ کا مقصد صرف نجات حاصل کرنا ہے لیکن نجات عمل سے حاصل ہوتی ہے نہ کہ باتوں سے۔آپ مسلمان ہو نا چاہتے ہیں لیکن آپ یا د رکھیں اس کا نتیجہ اچھا نہیں بلکہ خراب ہو گا۔دیکھئے اس وقت مسلمانوں کی اپنی حالت کیا ہے ؟ تعلیم میں وہ سب سے پیچھے ہیں، چور ان میں زیادہ ہیں ، ڈاکو اِن میں زیادہ ہیں ، بدا خلاق وہ ہیں پھر اگر اسلام