خطبات محمود (جلد 16) — Page 624
خطبات محمود ۶۲۴ سال ۱۹۳۵ء بسا واقات ایسا ہوتا ہے کہ والدین بغیر کسی وجہ کے شور مچادیتے ہیں اُستاد حق پر ہوتا ہے مگر وہ بچوں کی بے جا محبت میں اُستاد کے خلاف شور مچانے لگ جاتے ہیں۔انہیں مثلاً اسی پر تکلیف محسوس ہونی شروع ہو جاتی ہے کہ ہمارے بچوں پر نمازوں کے لئے کیوں پابندی عائد کی جاتی ہے اور کیوں ان کے آرام میں خلل ڈالا جاتا ہے۔بورڈنگوں سے وہ اس لئے گھبراتے ہیں کہ اگر ہمارے بچے ان میں داخل ہو گئے تو نہ معلوم ان سے کیا سلوک ہو گا ، ان کی نگرانی کی جائے گی ، انہیں با قاعدگی کے ساتھ نمازیں پڑھنی پڑیں گی۔اکثر اوقات جب بچوں کے کسی عیب کو بیان کیا جاتا ہے تو ماں باپ کو بُرا لگتا ہے۔اگر ان کا بچہ جھوٹ بول رہا ہو اور انہیں تو جہ دلائی جائے تو وہ سن کر ہنس دیتے ہیں اور کہتے ہیں کیا ہو ا نیا نیا ہے۔حالانکہ بچپن ہی تو وہ عمر ہے جس میں اخلاق سدھر سکتے ہیں بڑے ہو کر کیا اصلاح ہوگی۔حضرت خلیفہ مسیح الاوّل ہمیشہ آم کے درخت کی مثال دیا کرتے تھے کہ جب اس کی گٹھلی زمین میں ڈالی جاتی ہے تو تھوڑے دنوں کے بعد اس کا خوشہ سانکل آتا ہے۔بچے اُس وقت گٹھلی زمین سے اکھیڑ کر اور اسے ذرا سا گھس کر باجہ بنا لیتے ہیں جس کو پنجابی میں پیلیاں کہتے ہیں مگر جب آم کا درخت بڑا ہو جاتا ہے تو اُس وقت بچے کیا اگر سارا خاندان مل کر بھی اُسے دھکے دے تو وہ نہیں گر سکتا۔یہی حال انسان کے گناہوں اور عیوب کا ہوتا ہے جب گناہوں کی ابتدا ہو اُس وقت انہیں دور کیا جاسکتا اور اُس کے پودا کو اکھیڑا جاسکتا ہے مگر جب گناہ نشو و نما پا جائیں اور درخت کی صورت اختیار کر لیں تو پھر ان کو اُکھیڑنے کے لئے کسی زلزلہ کی ضرورت ہوتی ہے۔غرض ماں باپ کے لئے موقع ہوتا ہے کہ وہ بچپن میں اپنی اولاد کی اصلاح کریں اور ان سے نمازوں کی پابندی کرائیں لیکن چونکہ وہ اس طرف توجہ نہیں کرتے اس لئے ان کے لڑکے آوارہ پھرتے رہتے ہیں اور جب دریافت کیا جائے تو کہہ دیتے ہیں کیا کیا جائے بڑا شوخ بچہ ہے۔اور جب وہ یہ کہ رہے ہوتے ہیں ان کے چہرہ سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا اُس کی شوخی پر انہیں بڑا فخر ہے۔ایک چھوٹی سی بات میں بتاتا ہوں کئی دفعہ میں نے اس کی طرف توجہ دلائی ہے مگر لوگوں نے اب تک عمل نہیں کیا۔بازاروں میں سے جب ہمارے بچے گزرتے ہیں تو چونکہ وہ غیروں کو گالیاں دیتے عام طور پر سُنا کرتے ہیں ، اس لئے وہ بھی ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں۔اگر کسی کو بنی نوع انسان سے محبت ہو اور وہ دوسرے کے بچوں کو بھی اپنے بچوں کی طرح سمجھے تو وہ انہیں محبت اور پیار