خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 587 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 587

خطبات محمود ۵۸۷ سال ۱۹۳۵ء پُرانے زمانہ میں بادشاہوں کا دستور ہوتا تھا کہ وہ بعض مواقع پر جبری نذریں لیتے تھے اور مقرر کر دیتے تھے کہ فلاں اتنی نذر دے لیکن صرف اُسے چُھو کر واپس کر دیتے تھے اللہ تعالیٰ کی نذر بھی ایسی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مال غنیمت میں پانچواں حصہ اللہ تعالیٰ کا ہے مگر وہ بھی بعد میں بندوں کی طرف کوٹ جاتا ہے۔پہلے رسول کے پاس، پھر اُس کے توسط سے ذوی النثر بی، بیتامی وغیرہ کے پاس چلا جاتا ہے گو یا اللہ تعالیٰ بندے کی نذر کو قبول کرتا ہے۔مگر اس طرح کہ ہاتھ لگا کر چھوڑ دیتا ہے۔اور فرماتا ہے کہ یہ ہم نے نشان قائم کیا ہے۔ایک بات کا جس کا اسلام میں ظہور ہوا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا وہ کیا ہے؟ فرمایا اِنْ كُنْتُمُ امَنتُم بِاللَّهِ وَمَا اَنْزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ التَقَى الْجَمْعَانِ وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ یہ ایک نشان ہے۔جس طرح ابراہیمی نسل کا نشان ختنہ تھا اسی طرح امت اسلامیہ کا نشان یہ ہوگا کہ خدا نے جس طرح بدر میں نشان ظاہر کیا ہے اسی طرح ہمیشہ کرتا رہے گا اگر مسلمان خدا تعالیٰ کا حصہ شامل رکھیں گے۔یہاں بے شک ظاہری جنگ مراد ہے اور جنگ بدر کی طرف اشارہ ہے مگر بعض صوفیاء نے اسے جنگ سے علیحدہ بھی کیا ہے اور لکھا ہے کہ اگر کہیں سے بھی بغیر محنت کے مال مل جائے تو اس کا ۵/۱ حصہ بھی دے دینا چاہئے۔اور بعض نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ ہر مال مال غنیمت ہے کیونکہ انسان اپنے گھر سے تو کچھ نہیں لایا جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے کہ ہے سب کچھ تیری عطا ہے گھر سے تو کچھ نہ لائے آپ نے اقل ترین وصیت دسویں حصہ کی رکھی ہے مگر یہ بھی دراصل پانچواں حصہ ہی ہے اس لئے کہ اس کے ساتھ اور بھی رقوم ہیں جیسے زکوۃ ، صدقات اور خاص چندے وغیرہ ہیں دراصل آپ نے ایک خاص شعبہ کے لئے دسواں حصہ مقرر کیا ہے ورنہ یہ پانچواں ہی بن جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ نشان قرار دیا ہے کہ آئندہ بھی مسلمانوں کے لئے ایسے مواقع پیش آئیں گے۔ایک طرف ان کے دشمن ہوں گے خواہ کفار خواہ بظاہر مسلمان کہلانے والے لیکن دل میں اللہ تعالیٰ سے بے تعلق اور دوسری طرف خالص مؤمن یار حزب اللہ اور مؤمنوں کو خدا کی نصرت کی ایسی ہی ضرورت پیش آئے گی جیسی بدر کے موقع پر صحابہ کو تھی۔بدر میں مسلمان تعداد میں بہت کم تھے اور کفار بہت زیادہ۔کفار کے پاس بہت ساز وسامان تھا اور یہ بالکل بے سروسامان تھے۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آئندہ بھی ایسے