خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 573 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 573

خطبات محمود ۵۷۳ سال ۱۹۳۵ء یا صحت کی کمزوری کی وجہ سے۔بہر حال اس قسم کے لوگ اس بات کے مستحق ہوتے ہیں کہ انہیں درس کی اہمیت بتائی جائے اور بار بار بتائی جائے تا کہ وہ شامل ہو کر فائدہ حاصل کریں۔دوسری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ میں نے اپنے سفر سے پہلے خطبوں میں بعض امور کے متعلق احرار کو مباہلہ کا چیلنج دیا تھا۔مجھے اپنی لڑکی کی بیماری کی وجہ سے جس پر دو دفعہ ٹائیفائڈ کا حملہ ہوا اور پچاس سے زائد دن وہ شدید بیمار رہی ، ضرورت تھی کہ میں اسے کسی ٹھنڈے مقام پر لے جاتا۔میں اُسی وقت سمجھتا تھا کہ میرے باہر جانے سے احرار نا جائز فائدہ اُٹھا کر یہ کہنا شروع کردیں گے کہ ہمیں مباہلہ کا چیلنج دے کر آپ بھاگ گئے اور انہوں نے یہ خیال نہیں کرنا کہ آخر مباہلہ کے لئے جو باتیں میں نے بیان کی ہیں ان کے متعلق جب تک کوئی فیصلہ کن بات طے نہیں ہو جاتی اُس وقت تک کہیں باہر جانے میں کیا حرج ہے۔میری پیش کر دہ باتوں کے متعلق دو ہی صورتیں ہو سکتی تھیں یا تو وہ انہیں قبول کرتے یارڈ کرتے۔اگر دعوت مباہلہ کو ر ڈ کر دیتے تو بھی باہر جانے میں کوئی حرج نہ تھا اور اگر قبول کر لیتے تب بھی بعض امور کے سر انجام دینے میں کچھ دیرگتی۔مثلاً میں نے پانچ سو یا ہزار آدمیوں کی مباہلہ میں شمولیت ضروری رکھی ہے ان پانچ سو یا ہزار آدمیوں کے انتخاب میں ہی کافی وقت لگتا لیکن میں جانتا تھا انہوں نے ان باتوں کو نظر انداز کر دینا ہے اور صرف یہی کہنا شروع کر دیں گے کہ لو ہم تو قادیان آگئے اور وہ مباہلہ سے گھبرا کر باہر چلے گئے۔حالانکہ مباہلہ کے لئے کوئی تاریخ مقر ر نہیں ہوتی جیسے پھلوں کے پکنے کا ایک موسم ہوتا ہے کہ مباہلہ ان دنوں سے آگے پیچھے نہیں ہو سکتا۔پس اگر میں دو یا تین ہفتہ کے لئے باہر گیا تھا اور پھر ایسی ضرورت کے لئے باہر گیا تھا جس کا انہیں بھی علم ہونا چاہئے تھا کیونکہ میری لڑکی کی بیماری کی خبر اخبار میں بھی چھپتی رہی ہے تو یہ ایسی بات نہ تھی جس سے وہ ناجائز فائدہ اُٹھا کر شور مچانا شروع کر دیتے۔لیکن بہر حال میرا چیلنج اب تک موجود ہے اور جہاں تک مجھے علم ہے ان کی طرف سے ابھی تک کوئی فیصلہ کن بات نہیں کی گئی۔میں نے احرار کی سہولت کے لئے ان - سے گفتگو کرنے اور ضروری امور کا تصفیہ کرنے کے لئے تین آدمی بھی مقرر کر دیئے تھے یعنی چوہدری اسد اللہ خان صاحب بیرسٹر ، شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ اور مولوی غلام احمد صاحب جو ہمارے لاہور میں مبلغ ہیں۔میں نے کہا تھا کہ میں ان تینوں کو اپنی طرف سے نمائندہ مقرر کرتا ہوں۔احرار خط و کتابت کر کے ان سے مباہلہ کے متعلق فیصلہ کر سکتے ہیں ممکن ہے ان سے کوئی ایسی گفتگو ہوئی