خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 565 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 565

خطبات محمود ۵۶۵ سال ۱۹۳۵ء اب گرائی گئی۔اس پر مسلمان جب تک پروٹیسٹ کرتے رہیں گے اس کا دوبارہ بنانا جائز ہوگا لیکن اگر ان کے جوش ٹھنڈے ہو گئے اور انہوں نے خیال کر لیا کہ جو ہونا تھا وہ ہو گیا اس کے بعد پھر اس سوال کو اُٹھانا جائز نہ ہوگا۔چوتھا فرق یہ ہے کہ میرا عقیدہ ہے کہ مسجد کے ملحقات اس میں شامل نہیں ہوتے مثلاً غسلخانے ، وضو کی جگہیں ، یا بعض لوگ مساجد کے ساتھ لائبریریاں بنا دیتے ہیں یہ مسجد کا حصہ نہیں اور انہیں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔اگر تو ایسی چیزیں وقف ہیں تو تبدیل کرنے والے کو چاہئے کہ ان کا بدلہ دے اور اگر کسی کی اپنی جائداد ہے تو وہ اسے لے سکتا ہے۔کیونکہ مساجد تو کسی کی جائداد نہیں ہوسکتیں مگر ملحقات ہو سکتے ہیں۔پس مساجد کے بارہ میں عام مسلمانوں سے میرے عقائد میں یہ اختلاف ہے اور اسی لئے جب کانپور کی مسجد کا واقعہ ہوا تو میں نے حکومت کی تائید کی اور اس پر مخالفوں کی طرف سے بہت گالیاں کھائیں۔لاہوری فریق نے مجھے اُس زمانہ میں بہت گالیاں دیں اس وجہ سے کہ میں نے کہا تھا کہ غسل خانہ مسجد کا حصہ نہیں اور آج بھی میرا یہی عقیدہ ہے۔آج بھی اگر کانپور کی مسجد جیسا کوئی واقعہ ہوتا تو میں حکومت کا ساتھ دیتا لیکن یہاں بالکل مختلف معاملہ ہے۔یہاں مسجد گرائی گئی ہے ایسی جگہ گرائی گئی ہے جہاں خواہ مخواہ مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہو اور ایسی صورت میں گرائی گئی ہے کہ اس کا علاج ممکن تھا۔پس میری یہی رائے ہے کہ اس معاملہ میں حکومت نے سخت غلطی کی ہے اور یہ بھی میں نے اس وجہ سے کہا ہے کہ حکومت نے بلا وجہ حملہ کر کے اور جھوٹے اتہام لگا کر مجھے مجبور کر دیا ہے۔حکومت سے میری مراد وہی چند ایک افسر ہیں جو بلا وجہ ہمیں دق کر رہے ہیں ورنہ حکومت میں اب بھی ایسے افراد ہیں جو ان باتوں کو بُرا مناتے ہیں۔دوسرا سوال یہ ہے کہ اس میں ہم نے کتنا حصہ لیا۔اس کے متعلق ایک بات تو یہ ہے کہ گولی چلنے سے پہلے ہم نے ہر گز کوئی حصہ نہیں لیا۔یہ جھوٹ ہے کہ ہم نے اس بات کو اٹھایا اور روپیہ دے کر جوش پھیلا یا۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ایسا خیال کرنا بھی حماقت ہے کیونکہ صرف مسلمان لیڈروں کو خرید کر یہ شورش پیدا کرانا ہی ناممکن ہے کجا یہ کہ مسلمان ،سکھ ، احرار اور حکومت کو خریدا جائے۔پس یہ بات بالکل خلاف واقعہ ہے لیکن اگر کوئی کہتا ہے کہ ہم نے ایسا کیا تو وہ آئے اور قسم کھا جائے۔ہاں جب مسجد گرائی گئی اور گولی چلی تو چونکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ مسجد نہیں کرائی جانی چاہئے تھی اور حکومت کا فرض