خطبات محمود (جلد 16) — Page 539
خطبات محمود ۵۳۹ سال ۱۹۳۵ء کے دلوں کو کیسا پایا ہے ؟ کیا رسول کریم ﷺ کا عشق اور آپ کی محبت انہوں نے محسوس کی یا رسول کریم ﷺ کی ہتک کا انہیں شبہ ہوا ؟ اگر احمدی با لفرض عام مسلمانوں کے سامنے رسول کریم کی ہتک کرنے سے اس خیال سے بچتے ہیں کہ اس طرح مسلمان ناراض ہو جائیں گے تو ہندوؤں، سکھوں اور عیسائیوں کے سامنے تو وہ نڈر ہو کر رسول کریم ﷺ کی نَعُوذُ باللہ ہتک کرتے ہوں گے پس غیر احمدیوں کے متعلق تو کہا جا سکتا ہے کہ احمدی منافقت سے کام لے کر انہیں خوش کرنے کے لئے ان کے سامنے رسول کریم ﷺ کی تعریف کر دیتے ہیں مگر ہندوؤں ، سکھوں اور عیسائیوں کے متعلق یہ بات نہیں کہی جاسکتی۔پس میں کہتا ہوں تصفیہ کا آسان طریق یہ ہے کہ ہندؤں ،سکھوں اور عیسائیوں میں سے ایک ہزار آدمی چُنا جائے اور وہ مؤکد بعذ اب حلف اُٹھا کر بتائیں کہ احمدی عام مسلمانوں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و عظمت کے متعلق زیادہ جوش رکھتے ہیں یا کم۔اگر ایک ہزار سارے کا سارا یا اس کا بیشتر حصہ کیونکہ ایک دو جھوٹ بھی بول سکتے ہیں یہ گواہی دے کہ اس نے احمدیوں کو رسول کریم ﷺ کی عزت کرنے والا اور آپ کے نام کو دنیا میں بلند کرنے والا پایا تو اس قسم کا اعتراض کرنے والوں کو اپنے فعل پر شرمانا چاہئے۔میں سمجھتا ہوں وہ لوگ جو ہمارے متعلق یہ کہتے ہیں کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہتک کرتے ہیں وہ بار بار ہمارے متعلق اس انتہام کو دُہرا کر خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں کیونکہ کسی کو گالی دینے کا ایک طریق یہ بھی ہوا کرتا ہے کہ دوسرے کی طرف گالی منسوب کر کے اس کا ذکر کیا جائے۔جیسے کوئی شخص کسی کو اپنے منہ سے تو حرام زادہ نہ کہے مگر یہ کہہ دے کہ فلاں شخص آپ کو حرام زادہ کہتا تھا یہ بھی گالی ہو گی جو اس نے دوسرے کو دی گو دوسرے کی زبان سے دلائی۔پس اگر یہ تصفیہ کا طریق جو میں نے بیان کیا ہے اس پر مخالف عمل نہ کریں تو میں کہوں گا ایسے اعتراض کرنے والے در حقیقت رسول کریم ﷺ کی خود ہتک کرتے ہیں گو اپنے منہ سے نہیں بلکہ ہماری طرف ایک غلط بات منسوب کر کے۔دوسرا طریق یہ ہے کہ ان مخالفین میں سے وہ علماء جنہوں نے سلسلہ احمدیہ کی کتب کا مطالعہ کیا ہوا ہو، پانچ سو یا ہزار میدان میں نکلیں۔ہم میں سے بھی پانچ سو یا ہزار میدان میں نکل آئیں گے۔دونوں مباہلہ کریں اور دعا کریں کہ وہ فریق جو حق پر نہیں خدا تعالیٰ اسے اپنے عذاب سے ہلاک کرے۔ہم دعا کریں گے کہ اے خدا ! تو جو ہمارے سینوں کے رازوں سے واقف ہے اگر تو جانتا ہے کہ ہمارے