خطبات محمود (جلد 16) — Page 537
خطبات محمود ۵۳۷ سال ۱۹۳۵ء رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ اسی قسم کی باتیں کفار کی طرف سے کہی جاتی تھیں۔کہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ افتراء کیا جاتا کہ آپ انبیاء کے منکر ہیں ، کہیں یہ کہہ کر لوگوں کو متنفر کرنے کی کوشش کی جاتی کہ آپ پہلے بزرگوں کی ہتک کرتے ہیں۔عیسائیوں نے سینکڑوں سال تک ایک دنیا کو یہ کہہ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بدظن کئے رکھا کہ آپ عورتوں کے اندر روح تسلیم نہیں کرتے۔یا یہ کہا جاتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم در حقیقت حضرت عیسی کے منکر تھے اور آپ ان کی ہتک کرتے تھے۔اسی بناء پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انہوں نے ایک ایسا نام رکھا ہوا تھا جس کا لینا بھی ہماری حد برداشت سے باہر ہے اور جس کے لفظی معنی حضرت عیسی علیہ السلام کے مخالف کے ہیں حالانکہ یہ ساری باتیں بالکل جھوٹ ہیں۔جن لوگوں نے اسلامی تاریخ کو پڑھا ہے وہ جانتے ہیں کہ جس وقت صحابہ کفار کے مظالم سے تنگ آ کر حبشہ کی طرف ہجرت کر کے چلے گئے اور انہوں نے نجاشی شاہ حبش کی پناہ لی تو اُس وقت مکہ کے لوگوں نے عمرو بن العاص اور ابن ربیعہ پر مشتمل ایک وفد حبشہ کو بھیجا اور نجاشی کو اُس کے ذریعہ کہلا بھیجا کہ ہمارے آدمیوں کو واپس کر دیا جائے کیونکہ اس طرح ہماری ہتک ہوتی ہے۔جب یہ لوگ وہاں گئے اور نجاشی کے سامنے معاملہ پیش ہوا تو اُس نے کہا جب تک اِن لوگوں کا کوئی مجرم ثابت نہیں ہو گا میں انہیں واپس کرنے کے لئے تیار نہیں۔میرا ملک آزاد ہے جو چاہے اس میں رہے۔ہاں اگر انکا مجرم ہونا ثابت کر دو تو انہیں تمہارے ساتھ بھیجا جا سکتا ہے۔انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا جرم یہی بیان کیا کہ یہ حضرت عیسی علیہ السلام کی ہتک کرتے ہیں ان کا یہ کہنا ہی بتا رہا تھا کہ صحابہ نے ان کا کوئی جرم نہیں کیا تھا کیونکہ اگر واقعہ میں انہوں نے کوئی مُجرم کیا ہوتا تو وہ اسے کیوں پیش نہ کرتے۔ان کا یہ قول کہ یہ حضرت عیسی علیہ السلام کی بہتک کرتے ہیں بتاتا ہے کہ وہ صحابہ کا کوئی حقیقی مجرم پکڑ نہیں سکتے۔نجاشی نے یہ سن کر صحابہ کو بلوایا اور پوچھا کہ آپ لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق کیا عقیدہ رکھتے ہیں؟ انہوں نے قرآن کریم کی بعض آیات پڑھ کر سنائیں جن میں ذکر آتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام خدا تعالیٰ کے برگزیدہ رسول تھے انہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے روح ملی تھی اور ان کے ہاتھ پر منجزات ظاہر ہوتے تھے۔جب وہ آیتیں نجاشی کے سامنے پڑھی گئیں تو اُس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ کہنے لگا اب میں سمجھ گیا کہ تم پر ظلم کیا جاتا ہے۔پھر اُس نے کہا کہ میں