خطبات محمود (جلد 16) — Page 528
خطبات محمود ۵۲۸ سال ۱۹۳۵ء زندہ کرتا ہے اور زندوں کو مارتا ہے ، ظلمت سے نور پیدا کرتا ہے اور نور سے ظلمت ، دن سے رات اور رات سے دن۔غور کرنا چاہئے کہ بار بار یہ کیوں بتایا گیا ہے۔یہ چیزیں تو ہم ہر روز دیکھتے ہیں ان کے ذکر کا کیا فائدہ تھا۔ہم روز دیکھتے ہیں کہ مُردہ نطفہ سے زندہ بچے پیدا ہوتے ہیں اور زندہ لوگ مر جاتے ہیں۔اس ذکر کی غرض یہی ہے کہ جس طرح تم یہ دیکھتے ہو اسی طرح روح کی حالت ہے۔وہ روح جو مُردہ ہو پھر زندہ ہو سکتی ہے اور جو روح زندہ ہو وہ بعض اسباب سے مُردہ ہو سکتی ہے اسی طرح تاریک قلب نیک تغیرات سے منور ہو سکتا ہے اور روشن قلب بُرے اثرات سے سیاہ ہو سکتا ہے۔پس یہ مت گمان کرو کہ احتیاط سے روح کو مُردنی سے بچایا نہیں جا سکتا۔اگر کوئی ایسی سواری ہو جو سورج کی روشنی جتنی ہی تیز چل سکے اور اس پر انسان سوار ہو جائے تو وہ رات کے اندھیرے سے بچ سکتا ہے اور اس پر کبھی تاریکی نہیں آئے گی۔اسی طرح اگر کوئی گناہ میں ایسا تیز ہو کہ رات کے ساتھ ساتھ چلے تو کوئی نور اس تک نہیں پہنچ سکتا۔درمیانہ درجہ میں کبھی دن ہو جاتا ہے اور کبھی رات۔جو روح ہمیشہ تاریکی میں ہی رہتی ہے وہ نفس امارہ ہے جس پر کبھی دن آ جائے اور کبھی رات وہ نفس لوامہ ہے اور جو ہمیشہ ہی نور میں رہے وہ نفسِ مطمئنہ ہے اور درمیانی حالت والا اپنے اندر ضرور تغیر پیدا کر سکتا ہے بلکہ ہمیشہ اندھیرے میں رہنے والا بھی اگر کھڑا ہو جائے کہ میں نے اس تاریکی کوختم کرنا ہے تو وہ بھی نور حاصل کر سکتا ہے۔پس جو لوگ اس خیال کے ہیں کہ کمزور ہمارے لئے بوجھ ہیں میں ان کو بتا تا ہوں کہ ان کی بھی اصلاح ہو سکتی ہے۔باقی رہے منافق سو ان کا بوجھ اللہ تعالیٰ نے ہم پر نہیں رکھا ہاں جو لوگ اخلاص سے سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں مگر گناہوں میں مبتلاء ہیں ان کی اصلاح ہمارے ذمہ ہے ان کے اندر جب حرکت پیدا ہو جائے گی تو نور خود بخود آ جائے گا۔کوئلہ کا ر بن گیس کی منجمد شکل ہوتا ہے۔اسے جب گرمی دے کر گیس یا دھواں بنایا جا سکتا ہے اور کوئلہ سے جو گیس نکلتی ہے اسے اگر ذرا گر می دے کر روشن کیا جا سکتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ سیاہ دل مؤمن کے اندر حرکت پیدا کی جائے اور وہ نور حاصل نہ کر سکے۔گزشتہ اتوار کو ہی میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک عربی کا شعر پڑھ رہا ہوں اور خیال کرتا ہوں کہ گویا مجھ پر وہ الہام ہوا ہے اور یہ بھی خیال کرتا ہوں کہ یہی شعر یا ایسا ہی کوئی دوسرا شعر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی الہام ہو اتھا جب میری آنکھ کھلی تو وہ شعر میری زبان پر تھا مگر افسوس کہ ایک مصرعہ یا درہ گیا دوسرا بھول گیا۔وہ مصرعہ یہ ہے۔