خطبات محمود (جلد 16) — Page 494
خطبات محمود ۴۹۴ سال ۱۹۳۵ء اُٹھا سکتے ہیں یہ تو آپ کو ہوا سمجھتے ہیں۔حکومت جب تک ایسے افسر مقرر نہیں کرتی جو ان میں سے ہوں اور ان کی جگہوں پر جا کر ان سے بات چیت کریں یہ فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔ان لوگوں کو تجربات سرکاری خرچ پر کرانے چاہئیں۔مثلاً زراعت کا محکمہ کسی کی حوصلہ افزائی اس طرح کر سکتا ہے کہ چلو تم فلاں پیچ کا تجربہ کرو ، لگان ہم دے دیں گے اور کام بھی ہم کر دیں گے۔مصیبت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں تحریکیں بہت ہیں مگر کام کرنے والے کم ہیں۔شملہ میں ایک بڑے لیڈر نے ایک دفعہ مجھ سے پوچھا کہ ہندوستان کا مستقبل کس طرح درست ہو سکتا ہے۔میں نے جواب دیا کہ اگر تھوڑے سے سپاہی مل جائیں۔وہ بہت حیران ہوا کہ ہندوستان کی آبادی ۳۳ کروڑ ہے کیا تھوڑے سے سپاہی بھی نہیں مل سکتے۔میں نے کہا کہ ہمارے ملک میں ہر ایک لیڈر ہوتا ہے سپاہی کوئی نہیں بنتا اگر ایک کروڑ سپاہی ہو، ایک کروڑ نہ سہی پچاس لاکھ ہی ہو ، پچاس لاکھ نہ سہی ۳۵لا کھ ہی ہوں ، بلکہ ایک لاکھ کا م کرنے والے بھی ہوں تو ملک کی حالت بدل سکتی ہے مگر شرط یہ ہے کہ وہ عقل سے کام کرنے والے ہوں سور کی طرح حملہ نہ کریں جو سیدھا جاتا اور نیزہ کھا لیتا ہے۔پس ہر مقام پر احمد یہ کورمیں بنائیں جو زیادہ تر رفاہِ عام کے کاموں کی مشق کریں اور جو اپنے عمل سے ثابت کر دیں کہ ان کی نگاہ میں ہندو مسلم ، سکھ کا کوئی امتیاز نہیں۔یہ پانچ موٹے اصول ہیں جو میں بتاتا ہوں ان پر اگر عمل کرو تو ان کے اندر بہت سا مواد تم کو ملے گا۔یہ لفظ تھوڑے ہیں مگر مطالب بہت وسیع رکھتے ہیں ان پر اگر عمل کرو تو بہت بڑے تغیرات پیدا کر سکتے ہو۔باقی رہا تقدیر کا پہلو سو اس کے متعلق یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا ماً مور بھیج کر جو اس قدر عظیم الشان تفرقہ پیدا کر دیا ہے وہ بلا وجہ نہیں ہو سکتا۔ہمارے مخالف خواہ کتنی بھی شرارت کریں لیکن اس میں کیا شبہ ہے کہ ہم ایسی باتیں ضرور کرتے ہیں جو انہیں بُری لگتی ہیں۔ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی کی زندگی میں رسول کریم ﷺ کی ہتک ہے مگر وہ سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات سے اسلام کا کچھ رہ ہی نہیں جاتا۔فی زمانہ مسلمان تجارت ، زراعت ، صنعت و حرفت تعلیم، اخلاق، مال و دولت غرضیکہ ہر لحاظ سے تباہ حال ہیں ان کے لئے صرف ایک ہی سہارا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان سے نازل ہو نگے اور کفار سے سب کچھ زبردستی چھین کر مسلمانوں کے حوالے کر دیں گے۔اب ایک شخص اگر یہ سمجھے بیٹھا ہو کہ فلاں آدمی جب مرے گا تو ساری جائداد مجھے دے دے گالیکن