خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 488

خطبات محمود ۴۸۸ سال ۱۹۳۵ء حاصل ہو جائے گی تو آ جائیں گے لیکن صحابہ نے آپ کی لیڈری کا تجربہ نہیں کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آپ بمنزلہ دماغ کے ہیں۔اگر آپ کو نقصان پہنچا تو دنیوی لحاظ سے پھر اسلام کی کامیابی کی کوئی سبیل نہیں اس لئے انہوں نے آپ کو اصرار سے پیچھے بٹھایا اور جب رسول کریم ﷺ نے جنگ سے پہلے مشورہ کیا تو ایک انصاری نے کہا کہ یا رَسُولَ اللهِ ہم موسیٰ کی قوم کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ جاؤ تم اور تمہارا رب لڑتے پھر وہم سچے دل سے ایمان لائے ہیں اور اگر جنگ ہوئی تو ہم آپ کے آگے لڑیں گے، پیچھے لڑیں گے، دائیں لڑیں گے اور بائیں لڑیں گے اور دشمن آپ تک ہرگز نہیں پہنچ سکے گا جب تک کہ وہ ہماری لاشوں کو روند کر نہ آئے۔انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ہم پیچھے رہتے ہیں اور آپ آگے جائیں آپ کے بعد ہم آئیں گے۔تو عظمند جماعتیں ہمیشہ اپنے لیڈروں کی حفاظت کرتی ہیں پس جن لوگوں کو لیڈر بناؤ تمہارا فرض ہے کہ خود قربانی کر کے بھی ان کی حفاظت کرو۔جس حد تک میرا معاملہ تھا، میں نے کبھی اس قسم کی تحریک نہیں کی اور اپنے اکیس سالہ عہد خلافت میں یہ بات کبھی پیش نہیں کی لیکن اب چونکہ دوسروں کا معاملہ ہے اس لئے میں بغیر کوئی شرم محسوس کئے تم کو نصیحت کر سکتا ہوں کہ منافق تمہارے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ یہ اچھے لیڈر ہیں جو خود پیچھے رہتے اور دوسروں کو آگے کرتے ہیں لیکن تمہارے دل میں یہ سوال پیدا ہی نہیں ہونا چاہئے بلکہ یہ سوال ہونا چاہئے کہ خود لیڈروں کو پیچھے کرو اور آپ آگے بڑھو۔یاد رکھو جو بُزدل ہے وہ لیڈری کے قابل ہی نہیں اور جسے تم لیڈر بنا لیتے ہو اُس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے نزدیک وہ بہادر اور عقلمند ہے اور تم اس کی بہادری اور دانشمندی کا اقرار کرتے ہو اور جب ایک دفعہ تسلیم کر لیا تو پھر دوبارہ امتحان کا مطلب ہی کیا ہو سکتا ہے۔اگر اس کے متعلق کوئی شبہ تھا تو پہلے بنانا ہی نہیں چاہئے تھا اور جب بنالیا تو پھر تمہارا فرض یہی ہے کہ خود آگے بڑھو اور اسے کہو کہ آپ دوسروں کی حفاظت کیلئے پیچھے رہیں۔پس ایک تو یہ نصیحت ہے جو میں کرتا ہوں۔دوسری وہ ہے جس کی طرف خصوصیت سے اللہ تعالیٰ نے مجھے توجہ دلائی ہے۔میں نے پچھلے جمعہ میں بھی کہا تھا اور اس کی تصدیق میں مجھے ایک الہام بھی ہوا ہے۔میں نے کہا تھا کہ شریعت اور قانون کے خلاف کوئی کام کر کے ہماری فتح فتح نہیں کہلا سکتی بلکہ اس طرح تم اپنے آپ کو بدنام اور رسوا کر لو گے۔تین چار روز کی بات ہے میں پالم پور میں ہی تھا اور صبح کی نماز کے لئے آنے کو تیار تھا ، چار پائی سے پاؤں لٹکائے ہوئے بیٹھا تھا، کچھ ستی کی سی حالت تھی کہ جاگتے ہوئے