خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 460 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 460

خطبات محمود ۴۶۰ سال ۱۹۳۵ء کوئی ذکر ہوا یہ دو ہزار روپیہ تمہارے منہ پر مارا جائے گا اور کہا جائے گا کہ انہوں نے حکومت سے اتنا وپیہ لے کر فلاں کام کیا۔چنانچہ جو کام کرنے والے تھے انہیں میں نے حکومت سے کسی قسم کی مالی مدد لینے سے روک دیا۔اس کے سوا کبھی گورنمنٹ کی طرف سے کوئی چیز پیش کرنے کی خواہش بھی نہیں کی گئی۔صرف یہ ایک واقعہ ہے جو پنجاب گورنمنٹ کا بھی نہیں بلکہ حکومت ہند کا ہے۔اس ایک معاملہ میں بھی ہم نے روپیہ لینے سے انکار کر دیا مگر مخالف کہتے ہیں احمدیوں کے خزانے گورنمنٹ بھرتی ہے اگر واقع میں یہ بات درست ہے تو اب گورنمنٹ کے لئے خوب اچھا موقع ہے وہ اعلان کر دے کہ فلاں موقع پر ہم نے احمدیوں کو اتنار و پید یا ، فلاں موقع پر اتنے ہزار اور فلاں موقع پر اتنے ہزار یا کسی اور رنگ میں گورنمنٹ نے مدد کی ہو تو اس کو ظاہر کر دے اگر واقع میں گورنمنٹ نے ہمیں کوئی فائدہ پہنچایا ہو تو وہ اسے چھپاتی کیوں ہے؟ اس کے مقابلہ میں باقی تمام قوموں میں سے ایسے لوگ ہیں جو گورنمنٹ سے قومی خدمات کا انفرادی بدلہ لیتے رہے ہیں۔قربانیاں قوم سے کرائی جاتی رہیں اور ان کے لیڈ رحکومت سے بدلے اپنی ذات کے لئے لیتے رہے یہی حال احرار کا ہے وہ بھی ایسے لوگ ہیں جو ہر جگہ جلب منفعت کے اصول کو مد نظر رکھتے ہیں۔پس گورنمنٹ نے اپنے اس رویہ سے سوائے اس کے اور کچھ نہیں کیا کہ اس نے سودا اس جماعت سے کیا ہے جو اس سے پہلے کئے کی قیمت وصول کرے گی اور پھر بھی گورنمنٹ کی خیر خواہ نہیں ہوگی اور اس نے اس جماعت کو ٹھکرایا ہے جس نے پچاس سال تک بغیر کسی نفع کے اس کی خدمت کی۔ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اس میں ہمارا نہیں بلکہ گورنمنٹ کا اپنا نقصان ہے۔پھر جانے دوان خدمات کو جو ہم نے حکومت کی ہندوستان میں کیں ، وہ خدمات لے لو جو حکومت برطانیہ کے باہر ہماری جماعت کرتی رہی ہے۔میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ ہمیں یہ معلوم نہ تھا کہ حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید کی شہادت کی وجہ کیا تھی۔اس کے متعلق ہم نے مختلف افواہیں سنیں مگر کوئی یقینی اطلاع نہ ملی تھی۔ایک عرصہ دراز کے بعد اتفاقاً ایک لائبریری میں ایک کتاب ملی جو چھپ کر نایاب بھی ہو گئی تھی اس کتاب کا مصنف ایک اطالوی انجینئر ہے جو افغانستان میں ایک ذمہ وار عہدہ پر فائز تھا۔وہ لکھتا ہے صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کو اس لئے شہید کیا گیا کہ وہ جہاد کے خلاف تعلیم دیتے تھے اور حکومت افغانستان کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا کہ اس سے افغانوں کا جذبہ حریت کمزور ہو جائے گا اور ان پر انگریزوں کا اقتدار چھا جائے گا پس ان