خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 394

خطبات محمود ۳۹۴ سال ۱۹۳۵ء طرف سے ان لوگوں کو جن کے نام سرکاری کا غذات میں بطور مالک کے لکھے ہوئے ہوں یہ کہا جائے کہ وہ عدالت میں جائیں اور جو سرکاری اندراجات سے بے پروا ہی کرنے والے ہوں ان کو مجبور نہ کیا جائے کہ پہلے وہ اپنا حق ثابت کریں ہم نے یہ تمام باتیں حکومت کے کانوں تک پہنچانے کی کوشش کی۔مگر باوجود ہماری تمام کوششوں کے ہماری کوئی بات نہیں سنی جاتی۔صراحتاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دی جاتی ہیں ایسی گندی گالیاں کہ اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہوتا کہ تم صبر کرو اور اگر خدا تعالیٰ نے ہمارے ہاتھوں کو باندھا ہوا نہ ہوتا تو خدا جانتا ہے کوئی غیرت مند اس قسم کی گالیاں دینے والوں پر شام نہ آنے دیتا اور انہیں ان کے کئے کا مزا چکھا دیتا۔چار پانچ دن ہوئے ایک واعظ نے جس کا میں نام نہیں لینا چاہتا کیونکہ اس سے طبائع میں اشتعال پیدا ہو جاتا ہے ایک تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اگر مرزائی باز نہ آئے تو ہم یہ ثابت کر دیں گے کہ نَعُوذُ بِاللہ مرزا غلام احمد کے دو باپ تھے۔یہ وہ چیزیں ہیں جو ہو رہی ہیں اور متواتر ہو رہی ہیں حکومت خاموش ہے اور مسلسل خاموش ہے ہم اسے جگاتے ہیں مگر وہ نہیں جاگتی، بیدار کرتے ہیں مگر وہ بیدار نہیں ہوتی ، حالات اس کے سامنے رکھے جاتے ہیں مگر وہ ان پر کوئی توجہ نہیں کرتی آخر کب تک ہم ان باتوں پر صبر کریں گے۔جس خدا نے ہمیں حکم دیا ہے کہ تم دنیا میں فتنہ و فساد پھیلانے سے بچو ، جس خدا نے ہمیں حکم دیا ہے کہ تم اپنے ہاتھ رو کو اور ظالم کو خود سزا نہ دو، جس خدا نے ہمیں حکم دیا ہے کہ حکومت وقت کی اطاعت اور فرماں برداری کرو اور اس کے قوانین کی خلاف ورزی نہ کرو، اُسی خدا نے ہمارے لئے ایک اور دروازہ بھی کھول رکھا ہے اور وہ یہ کہ تم میرے پاس آؤ اور کہو اے خدا ! ہم ستائے گئے ، ہم بے حد دُ کھ اور تکلیف دیئے گئے ، دشمن نے ہم پر زمین تنگ کر دی، اس نے ہماری عزتوں پر حملہ کیا، ہماری جائدادوں پر حملہ کیا، ہمارے مقدس پیشوا ؤں پر حملہ کیا، ہمیں بلا وجہ تنگ کیا اور اتنا دکھ دیا کہ وہ ہماری حد برداشت سے بڑھ گیا، اے خدا ! تُو جو مظلوموں کا حامی اور بے کسوں کا فریا درس ہے آسمان سے اتر اور ان دشمنوں کو فنا کر دے۔اپنے قہر کا کوئی عبرت ناک نشان دکھا جس سے یہ ہمیشہ کے لئے نابود ہو جائیں۔ہم نے قانون نہ آج تک اپنے ہاتھ میں لیا اور نہ آئندہ لیں گے لیکن ہمارا خدا ایک زندہ خدا ہے ہم اُس کے پاس جائیں گے اور اُس کے حضور ان دشمنوں کی غارت گری اور بربادی کے لئے دعائیں کریں گے۔ہر ایک چیز کی ایک حد ہوتی ہے مگر ہمیں دُکھ دیا گیا اور بے انتہا ء دُکھ دیا گیا ، ہم پر ظلم کیا گیا اور ا